ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آبنائے ہرمز بند رکھنے کی ایرانی دھمکی، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

آبنائے ہرمز بند رکھنے کی ایرانی دھمکی، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی شرائط تسلیم کرنے تک آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے بند رہے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو امریکا اور ایران کے حامی حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر الگ الگ حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ واقعات خلیج عمان اور بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر پیش آئے، دونوں مقامات عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم بحری راستے ہیں۔

بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر باب المندب آبنائے میں ایک چھوٹے کارگو جہاز پر مبینہ حوثی حملے میں 4 عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔ یمن کی ٹرانسپورٹ وزارت کے مطابق واقعہ منگل کو پیش آیا، جبکہ یمن کے کوسٹ گارڈ کے مطابق حوثی مخالف فوجی گروپ سے تعلق رکھنے والے 2 یمنی امدادی اہلکار بھی مارے گئے۔

حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے صبا نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے باب المندب میں سعودی عرب جانے والے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں حوثیوں کا کہنا تھا کہ وہ فوجی سامان لے جا رہا تھا۔ تاہم جہاز کا نام نہیں بتایا گیا اور سعودی عرب کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب امریکی فوج کے مطابق امریکی بحریہ کے ایم ایچ 60 ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم والے ایک کارگو جہاز کے اسٹیئرنگ سسٹم کو ناکارہ بنانے کے لیے دو ہیل فائر میزائل داغے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جہاز نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی روکنے کے لیے دی گئی متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔ بحری ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جہاز کو پاکستان کے قریب خلیج عمان میں داخل ہوتے وقت نشانہ بنایا گیا۔

دریں اثنا ایران اور امریکا کے درمیان بیان بازی میں بھی شدت آگئی ہے۔ ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

محسن رضائی کے مطابق ایران کی شرائط میں منجمد اثاثوں کی واپسی اور لبنان و غزہ سمیت خطے میں جاری تنازعات کا خاتمہ شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران سے 50 سال کی جنگوں، حملوں اور مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لیے معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹرمپ جنگ کے دوران کبھی کشیدگی بڑھانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور کبھی امن معاہدہ جلد ہونے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔

تازہ بیانات کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی تشویش دیکھی گئی۔ عالمی حصص میں کمی جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 1.4 فیصد اضافے کے بعد 88.91 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 1.3 فیصد اضافے کے بعد 83.20 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

رائٹرز کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی مجموعی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے مشیر محمد رضا نقدی نے بھی ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پاسداران انقلاب دشمن کی سرزمین پر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے اس تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ ایران نے عمان، اردن، کویت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں امریکی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔