رائو دلشاد: پنجاب میں ممکنہ مون سون بارشوں سے قبل شہری علاقوں کو نکاسیٔ آب کے مسائل سے بچانے کے لیے حکومت نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ تمام جاری نکاسیٔ آب منصوبے جون سے پہلے مکمل کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے 24 گھنٹے کام جاری رکھا جائے۔
اجلاس میں 15 شہروں میں واسا کمپلیکس کے ڈیزائن کی منظوری دی گئی جبکہ سیوریج اور بارشی پانی کے نکاس کے منصوبوں کو مون سون سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
حکام کے مطابق سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، گجرات، اوکاڑہ، جھنگ، ملتان اور سیالکوٹ میں منصوبے جاری ہیں، جبکہ جہلم، حافظ آباد، ساہیوال، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور راوالپنڈی میں بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 15 شہروں میں 2265 کلومیٹر طویل سیوریج لائن اور 189 کلومیٹر بارشی پانی کے نکاس کے لیے پائپ لائن بچھائی جائے گی، جبکہ پہلے مرحلے میں 86 ڈسپوزل اسٹیشنز اور 9 انڈرگراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس تعمیر کیے جائیں گے۔
مزید یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد 752 کلومیٹر سڑکیں بھی تعمیر کی جائیں گی، جبکہ واسا کمپلیکس میں افسران کے لیے ہوسٹلز بنائے جائیں گے۔ منصوبوں کی نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ اور موبائل ایپ کے ذریعے ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی، جبکہ مون سون سے قبل نالوں کی صفائی کے لیے ڈی سلٹنگ مہم بھی شروع کی جائے گی۔