سٹی 42: فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گزشتہ پانچ روز میں پٹرول کی قیمت میں 25 روپے اضافہ ہو چکا ہے۔ پنجاب میں غربت کی شرح میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے
فواد چوہدری نے کہا 26 جنوری سے اب تک پٹرول کی قیمت میں تقریباً 119 روپے اضافہ ہوا،حکومت صرف مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا جواز نہیں بنا سکتی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان کی صنعت، زراعت اور ہر شعبے پر پڑ رہے ہیں، فروری سے اب تک بجلی کی قیمت میں 28 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے،حکومت آئندہ تین ماہ میں بجلی کی قیمت میں مزید 10 فیصد اضافے کا اعلان کر چکی ہے،بجلی کے کمرشل یونٹ کی قیمت 140 روپے تک پہنچ جائے تو معیشت کیسے چلے گی؟ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر اپنی نااہلی کی قیمت عام آدمی سے وصول کر رہی ہے،پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت تقریباً 2 ہزار ارب روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
بجلی اور گیس کے ذریعے بھی عوام سے اربوں روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، 1800 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹس کے باوجود پورے پاکستان میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے،وفاقی حکومت چلانے کا خرچ 750 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔حکومت کے غیر ضروری اخراجات اور ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے، فواد چوہدری
حکومتی عیاشیوں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے عام آدمی کو ریلیف دینا ہوگا،سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، حکمران نجی دوروں کے لیے بھی سرکاری وسائل اور جہاز استعمال کر رہے ہیں۔
مریم نواز کے لندن دورے پر تقریباً سوا چھ کروڑ روپے کے اخراجات کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ۔ مریم نواز کے لندن دورے کے اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کے دعوے کی رسید عوام کے سامنے لائی جائے، پنجاب میں غربت کی شرح میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے،پنجاب کی 23 فیصد سے زائد آبادی 8 ہزار روپے ماہانہ بھی کمانے کے قابل نہیں۔پاکستان میں فوڈ سکیورٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے،۔سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر پاکستان کی گورننس بہتر نہیں ہو سکتی، نئے صوبوں کا قیام ایک بنیادی انتظامی اصلاح ہے، اس پر سنجیدہ بحث اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔شناخت برقرار رکھتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار طے کیا جا سکتا ہے، سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ڈیولوشن کے بغیر پاکستان میں گورننس کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
لوکل گورنمنٹ کو اختیارات اور وسائل منتقل کیے بغیر حقیقی ڈیولوشن ممکن نہیں۔نئے صوبوں کی بحث کو متنازع بنا کر طویل کرنے سے اصلاحات کا عمل متاثر ہوگا، نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو عملی اقدامات کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔