ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیف جسٹس کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس، قومی یکساں ای فائلنگ اور الیکٹرانک جوڈیشل ریکارڈ سسٹم کی اصولی منظوری

چیف جسٹس کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس، قومی یکساں ای فائلنگ اور الیکٹرانک جوڈیشل ریکارڈ سسٹم کی اصولی منظوری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: چیف جسٹس کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس، اعلامیہ جاری کردیا ۔ 

اعلامیہ کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے 14 لاکھ 67 ہزار 675 ٹائم باؤنڈ کیسز نمٹانے پر ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو سراہا،یکم ستمبر 2025 سے 31 جولائی 2026 تک 14 لاکھ 67 ہزار 675 ٹائم باؤنڈ مقدمات کے فیصلے ہوئے،ٹائم باؤنڈ کیسز کی زیر التوا تعداد 12 لاکھ 27 ہزار 657 تھی۔

کمیٹی  نے  انصاف تک رسائی تیز، عدالتی استعداد بڑھانے اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا ۔ جبری گمشدگیوں کے مقدمات کیلئے ازالے کے طریقہ کار پر غور، وزارت قانون کو معاملہ جلد حتمی بنانے کی ہدایت  کی ۔  کمیٹی کی جبری گمشدگیوں کے معاملے پر وزارت قانون کو آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت  کی ۔ 

 اجلاس میں قومی عدالتی اصلاحاتی فریم ورک کا مسودہ ہائیکورٹس کو جائزے کیلئے بھجوانے کا فیصلہ   کیا ۔ کمیٹی نے ہائیکورٹس کو قومی عدالتی اصلاحاتی فریم ورک پر تجاویز 10 روز میں دینے کی ہدایت کر دی،رول آف لا ٹریکر کو تمام عدالتی سطحوں پر 15 مارچ 2027 تک مکمل فعال کرنے کا فیصلہ ہے انصاف کے شعبے کیلئے میڈیا اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن سیل فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی ۔ عدالتی ڈیٹا کے اجراء کیلئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز تیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ کمیٹی نے پاکستان کی عدالتوں کیلئے قومی یکساں ای فائلنگ اور الیکٹرانک جوڈیشل ریکارڈ سسٹم کی اصولی منظوری دے دی،

قومی ای فائلنگ نظام کے پائلٹ مرحلے میں بار کونسلز کو ہر مرحلے پر شامل رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ ای فائلنگ سسٹم کا پائلٹ منصوبہ منتخب اسٹیشنز پر فیملی کیسز سے شروع کیا جائے گا، پائلٹ منصوبے میں فیملی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ شامل ہوں گے،چیف جسٹسز کو عدالتی کارکردگی پر ماہانہ بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ماڈل کریمنل کورٹس نے 11 ماہ میں 91 ہزار 71 مقدمات کے فیصلے کیے۔ماڈل سول کورٹس نے 11 ماہ میں 42 ہزار 386 مقدمات کے فیصلے کیے۔ضلعی عدلیہ کے جوڈیشل افسران اور عملے کیلئے ہیلتھ انشورنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ تمام ہائیکورٹس کو لاہور ہائیکورٹ کی منظور شدہ ہیلتھ انشورنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ۔ جوڈیشل سروس کا قانونی فریم ورک بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری ایکٹ 2021 کی طرز پر بنانے کی تجویز بھی دی ۔