ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیا وزیر اعظم کون بنے گا؛ ’جین-زی‘، آپس میں ہی لڑ پڑے 

Nepal violence, Kathmandu violence
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  نیپال کی سابق جج سشیلا کارکی اور کٹھمنڈو کے میئر بالین شاہ کے حامی فوج ہیڈ کوارٹر کے باہر اس بات پر ایک دوسرے سے لڑ پڑے کہ نیپال کی قیادت کون کرے گا۔
 نیپال میں بظاہر بے سمت نوجوانوں کے ہجوم نے  دارالحکومت کٹھمنڈو میں تشدد، آگ لگانے  توڑ پھوڑ کے ذریعہ حکومت کو بے بس کر کے  وزیراعظم  کے پی اولی کو وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹا تو دیا لیکن اب نئی حکومت کی تشکیل کی جنگ شروع ہو گئی ہے تو ان نوجوانوں کو استعمال کرنے والے گروہ کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ 

 اہم سیاسی جماعتوں کے خلاف نفرت پھیلا کر خود لیڈر بننے کی ہوس میں مبتلا  متبادل لیڈروں میں  بجلی بورڈ کے سابق سربراہ کُلمان گھسنگ اور نیپالی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کے نام ہیں ان کے ساتھ  کٹھمنڈو کے میئر بالین شاہ کے حامیوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ ایسے میں مختلف لوگوں کے حامیوں نے آپس میں ہی لڑنا شروع کر دیا۔

 بھدرکالی  میں واقع نیپالی فوج کے ہیڈکوارٹر کے باہر  نام نہاد جنریشن زی کے مظاہرین کے درمیان عبوری حکومت کے انتخاب پر لڑائی ہو گئی۔
نیپال کی سابق جج سشیلا کارکی اور  میئر بالین شاہ کے حامی فوج ہیڈ کوارٹر کے باہر  اس بات پر ایک دوسرے سے الجھ گئے کہ نیپال کی قیادت کون کرے گا۔ اس تصادم کے باعث علاقہ میں ایک بار پھر کشیدگی کی حالت پیدا ہو گئی ہے

وزیراعظم  اولی کے استعفیٰ کے بعد اب تک بے سمت جین-زی  یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ اگلا وزیر اعظم کون ہوگا۔ میٹنگ کے بعد ہر بار نیا نام سامنے آ رہا ہے۔ کچھ دنوں تک نیپال کی سڑکوں پر خونی احتجاج کے بعد فوج نے کٹھمنڈو مین کنٹرول سنبھال لیا تو اس کے بعد  جین-جی کے نام سے مشہور  مظاہرین گزشتہ ایک-دو روز سے پرامن تھے۔ نئی حکومت کو لے کر میٹنگوں کا سلسلہ چل رہا تھا، لیکن آج جمعرات (11 ستمبر) کو بالین اور سشیلا کے حامی ایک دوسرے سے متصادم ہو گئے، اس دوران نعرے بازی بھی کی گئی۔

جین-زی گروپ کے نمائندے عبوری حکومت کے رہنما کے نام کو حتمی شکل دینے کے لیے جمعرات کو بھدرکالی میں واقع آرمی ہیڈکوارٹر میں نیپال کے صدر رام چندر پوڈیل اور آرمی چیف اشوک راج سگدل کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ احتجاج کرنے والا جین-زی گروپ عبوری حکومت کی قیادت کے لیے سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی،  میئر بالین شاہ اور 2 دیگر  ناموں پر غور کر رہا ہے۔

 عبوری رہنما وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی جگہ لیں گے، جنہوں نے تشدد  کے بعد منگل کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

 فوج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ حالانکہ انہوں نے کسی کا نام نہیں بتایا۔

فوج کے ترجمان نے کہا، ہم مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ  بات چیت کر رہے ہیں۔ بات چیت بنیادی طور پر موجودہ تعطل سے نکلنے کے ساتھ ساتھ ملک میں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔
میٹنگ کے دوران فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر بڑی تعداد میں نوجوان بے صبری سے فیصلہ سننے کا انتظار کرتے نظر آئے۔ بدھ کو بھی اسی طرح کی میٹنگ ہوئی تھی، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ذارئع سے ملی اطلاع کے مطابق میٹنگ کا مقصد موجودہ تعطل سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے، جس میں ایک قائم مقام رہنما کی نامزدگی اور آئندہ کا لائحہ عمل شامل کرنا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی غور و خوض کیا جا رہا ہے حکومت کی باگ ڈور ایسے شخص کے ہاتھ میں سونپی جائے جو ایک متعینہ مدت میں نیا انتخاب کرائے گا۔