ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ماریشس کے ہندوؤں میں سے 55 فیصد میں دلِت ڈی این اے نکل آیا

 Hindutva, Indians in Mauritius,Mauritius dalit hindu
کیپشن: ماریشس کی ہندو کمیونٹی کو بھارت کی ہندوتوا پرست حکومت ہندوتوا کی بین الاقوامی بالادستی کی ایک علامت کے طور پر تشہیر کرتی ہے اور انہیں ہندو اثرات کے سمبل کی حیثیت سے بیان کرتی ہے۔ اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بیشتر دلِت ڈی این اے رکھتے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ماریشس میں ہندوؤں کی کُل آبادی کے 55 فیصد  میں یوپی-بہار کے دلِت ڈی این اے کا اثر نمایاں ہے۔ ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ماریشس میں رہنے والے ہندوستانیوں کی کُل آبادی کا تقریباً 55 فیصد ڈی این اے یوپی کے پوروانچل اور بہار کے بھوج پوری بولنے والے دلت برادری سے ملتا ہے۔
 دلِت کو بھارت میں ہندوتوا کے پیروکار سب سے گھٹیا انسان سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ ہاتھ ملانا اور کھانا پینا جائز نہیں سمجھتے۔ ان کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا بھی نہیں کھاتے۔ بھارت میں دلِت قرار دی گئی کمیونٹیز کو کئی صدیوں کے امتیازی سلوک، مسلسل تعصب پر مبنی سماجی رویئے کے سبب پسماندہ ترین طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ ماریشیس میں رہنے والے بھارتی نژاد ہندوؤں کو متمول، زیادہ تہذیب یافتہ، موڈرن سمجھا جاتا ہے۔ اب ایک سائنسی تحقیق نے ہندوتوا کے پیروکاروں کو  شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے کہ ماریشس کے ہندو جنہیں وہ برتر سمجھتے ہیں ان میں سے 55 فیصد میں تو دلِت ڈی این اے نکل آیا ہے۔

ماریشس کا نام آتے ہی آنکھوں کے سامنے ایک خوبصورت جزیرہ کا نظارہ گھومنے لگتا ہے۔ قدرتی خوبصورتی اور خوشحالی کے لیے مشہور افریقہ کے پاس بسے ماریشس کی دریافت سال 1502 میں ہوئی تھی۔ یہاں کی کل آبادی 12 لاکھ کے قریب ہے، لیکن یہاں کی بول چال اور تہذیب میں ہندوستانی اثر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس ملک نے کم مدت میں ہی جس طرح سے دنیا میں اپنی شناخت قائم کی ہے اس میں ہندوستانی نژاد لوگوں  اور خاص طور سے دلت برادری کا اہم تعاون ہے۔ بھوج پور ی زبان بولنے والے دلت طبقہ کے لوگ ہی دراصل ماریشس کو ترقی یافتہ بنانے میں مصروف ہیں۔ بی ایچ یو کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ماریشس کے ہندوستانیوں کی کُل آبادی کا 55 فیصد ڈی این اے یوپی اور بہار کے بھوجپوری بولنے والوں اور دلت برادری سے ملتا ہے۔

Caption ماریشس کا ایک مشہور ہندو ٹیمل


ڈی این اے سائنٹسٹ پروفیسر گیانیشور چوبے نے گزشتہ 4-3 سالوں کی اپنی تحقیق میں ان معلومات کو اکٹھا کیا ہے۔ پروفیسر چوبے نے 2021 سے اس تحقیق کی شروعات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ماریشس سے بہت سے سیمپل لیے گئے اور ان سیمپلز  کی سی کوینسنگ کی گئی۔ جو نتیجہ سامنے آیا اس میں ماریشس میں رہنے والے ہندوستانیوں کی کُل آبادی کا تقریباً 55 فیصد ڈی این اے یوپی کے پوروانچل اور بہار کی بھوجپوری بولنے والی دلت برادری سے ملتا ہے۔ یعنی کہ پوروانچل کے ساتھ ساتھ بکسر، آرا، بھبھوا، چھپرہ اور سہسرام کے دلت طبقہ کے لوگوں کے ڈی این اے کے حامل ہندوؤں کی ماریشس میں بھاری اکثریت ہے۔۔

پروفیسر گیانیشور چوبے بتاتے ہیں کہ 2021 میں جب ماریشس سے ایک شخص اپنی اصل تک پہنچنے کی کوشش میں یہاں آیا تو اس تحقیق کی شروعات ہوئی۔ اس کے بعد ان کے ذریعہ ہی ماریشس کے کئی لوگوں کو راضی کیا گیا اور ان سے سیمپل اکٹھا کیا گیا۔ بھوجپوری بولی بولنے والے روایتی علاقہ کے سیمپل کا ڈیٹا بیس ان کے پاس پہلے سے ہے۔ 4 سال کی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ سامنے ہے۔

ماریشس میں ہندوؤں کی آمد

1510 میں ماریشس پر سب سے پہلے پرتگالیوں کا قبضہ ہوا۔ لیکن افریقہ سے مزدوروں کو ماریشس میں آباد کرنے کی شروعات 1670 میں نیدرلینڈ کے ڈچوں نے کی۔ 1810 میں کالرا اور ملیریا بیماری پھیلنے لگی، قوت مدافعت کم ہونے کے سبب یہ لوگ بیمار ہونے لگے۔ افریقہ کے لوگ اس بیماری کو برداشت نہیں کر پائے اور ان کی اموات ہونے لگیں۔ 28 سال کے بعد فرانس نے ماریشس پر قبضہ کیا تو انہی مزدوروں سے کام کرایا۔ 1810 میں انگریزوں کے ماریشس پر قبضہ کرنے کے بعد سے یوپی اور بہار سے مزدوروں کو وہاں لے جایا گیا۔ 1834 میں ’اینٹی سلیوری لا‘ (غلامی کے خلاف قانون) پاس ہونے کے بعد اس میں مزید تیزی آ گئی۔

ماریشس جانے والے ہبدوستانی مزدور اپنی ثقافت اور عقیدے کو اب تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ماریشس کی ثقافت اور بنارس سے اس کے تعلق پر طویل عرصے سے کام کر رہے پروفیسر آر بی سنگھ کہتے ہیں کہ ’’نوین چندر رام غلام جب بنارس میں ہوں گے تو یقینی طور پر وہ اپنی اصل کو محسوس کر رہے ہوں گے۔

 کپاس اور گنے کی زراعت کے لیے بھوجپور علاقہ (اس وقت پوروانچل کا نام استعمال میں نہیں تھا) کے غریب لوگوں کو ماریشس، فجی، ٹرینیڈاڈ، فرنچ گیانا جیسے علاقوں میں لے جایا گیا۔ یہ مزدور اپنے ساتھ تلسی کی مالا، گنگاجل اور رام چرت مانس لے گئے تھے۔ جن تکالیف اور بے پناہ مصائب کو ان لوگوں نے برداشت کیا اس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ پروفیسر آر پی بی سنگھ کہتے ہیں کہ عظیم ناول نگار ولیم لکھتے ہیں ’’یوپی اور بہار کے بھوجپوری بولنے والے سب سے کمزور طبقے کے یہ لوگ جب زنجیروں میں بندھے گنے اور کپاس کی زراعت کرتے تھے تو اس ناقابل برداشت تکلیف میں بھی رام چرت مانس گنگناتے رہتے تھے۔‘‘