ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

منڈی میں چاول اری 6 کی قیمت کم ہو جانے پر کاشتکار احتجاج کے لئے سڑک پر آ گئے

Pedy, Rice , Iri6 rice, market mechanism,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  منڈی میں چاول اری 6 کی قیمت کم ہو جانے پر کاشتکار احتجاج کے لئے سڑک پر آ گئے، دھرنا دے کر اہم شاہراہ بند کر دی۔

سندھ کے شہر بدین میں آبادگار  (کاشتکار) مقامی منڈیوں میں چاول کی قیمت گر جانے پر سراپا احتجاج بن گئے اور احتجاج کرنے کے لئے سڑک پر آ گئے۔   گولارچی میں کاشتکار مظاہرین نے دھرنا دے کر کراچی بدین شاہراہ بند کر دی۔

آبادگار ایکشن فورم کی جانب سے محمدیہ مسجد سے نکالی گئی ریلی فاضل چوک پر دھرنے میں تبدیل ہو گئی۔ ان  کو شکایت تھی کہ منڈیوں میں چاول کی قیمت 3200 روپے فی من سے کم ہوکر 2200 تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاول کی قیمت گر جانے سے کاشتکاروں کو  نقصان ہو رہا ہے۔ 

احتجاج کرنے والے کاشتکاروں  کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر پاسکو سینٹرز قائم کرکے ان کے چاول کی سرکاری خریداری کرے اور آبادگاروں کا معاشی استحصال بند کروائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے  مطالبات تسلیم نہ کیے تو 16 اکتوبر کو  شہر میں"شٹر ڈاؤن ہڑتال"  کی جائے گی۔

صورتحال

منڈی میں چاول کی قیمت ہر سال کے معمول کے مطابق بڑھتی، گھٹتی ہے۔ اری 6  مونجی (سندھی کاشت) کی مارکیٹ میں عمومی قیمت اس کی کوالٹی اور وقت کے حساب سے  2200 روپے فی من سے لے کر  2600 روپے فی من تک رہتی ہے۔

پنجاب میں کاشت کئے گئے اِری سِکس دھان (مونجی) کی قیمت  1800 روپے فی من سے 2600 روپے فی من تک رہتی ہے۔ سندھ کی منڈیوں میں آج کل اری سکس کی قیمت گری ہوئی ہے لیکن یہ مارکیٹ کا معمول ہے۔

مقامی منڈیوں میں چاول کی قیمت کا دارومدار ڈیمانڈ، سپلائی کے عمومی اصول پر ہوتا ہے۔ جن دنوں میں ایکسپورٹ کم ہو تو اس کا اثر مقامی منڈیوں پر بھی پڑتا ہے اور سپلائی وافر رہنے سے قیمت قدرے  گر جاتی ہے۔

کاشتکاروں کو شکایت ہے کہ مارکیٹ میں جو قیمت مل رہی ہے اس سے ان کے اخڑاجات پورے نہیں ہو رہے۔ اس لئے حکومت کو سرکاری طور پر ان کی فصل بہتر قیمت پر خریدنا چاہئے۔