ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب کابینہ کا 34 واں اجلاس: 22 مئی سے 24 اگست تک سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کی منظوری

پنجاب کابینہ کا 34 واں اجلاس: 22 مئی سے 24 اگست تک سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کی منظوری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : پنجاب کابینہ نے 22 مئی سے 24 اگست تک سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کی منظوری دے دی۔ 

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 34 واں اجلاس ہوا ۔ جس کے آغاز میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر نواز شریف، وزیراعظم ، فیلڈ مارشل، ایئر چیف، نیول چیف کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ 

وزیراعلیٰ مریم نواز نے انشورنس کمپنی کے قیام پر وزیرِ خزانہ، سیکرٹری فنانس کی کارکردگی کو سراہا۔ پنجاب کابینہ نے کمپنی کے قیام کی باضابطہ منظوری دے دی۔ چولستان ، کچے میں آسان شرائط پر اپنا کھت، اپنا روزگار سکیم شروع کرنے کی منظوری دی دی گئی۔

کابینہ نے22 مئی سے 24 اگست تک سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم کے لئے 30ہزار لاٹ کی شناخت کر لی گئی، اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم میں ابتک تقریباً2 لاکھ خاندانوں کی ایپلی کیشنز موصول ہوئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم کی کڑی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی، کہا کہ شہریوں کو اپنا کھیت، اپنا روزگارسکیم کی پوری معلومات ایک کلک پر مہیا ہونی چاہیے۔ 

اجلاس میں قائداعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں مزید 200 ایکڑ رقبے کی توسیع کی منظوری، پنجاب میں ایکسل لوڈ مینجمنٹ نظام کے نفاذ کی منظوری، مری گلاس ٹرین منصوبے کیلئے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی منظوری، پنجاب آٹزم سکول اینڈ ریسورس سینٹر ایکٹ 2026 کے ڈرافٹ بل کی منظوری، پنجاب کنٹرول آف غنڈہ اینڈ اینٹی سوشل بیہویئر ایکٹ 2025 کی منظوری، مریم کو بتائیں پروگرام کے اہلیت کے معیار اور فنانشل ایلوکیشن میں تبدیلی کی منظوری، سیلاب سے بچاؤ اور دریاؤں کے کٹاؤ کو روکنے کیلئے حفاظتی اقدامات کی منظوری، پوٹھوہار میں زراعت کی تبدیلی کے منصوبے اور سبسڈی کی منظوری، پراوونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تنظیم نو اور استعداد کار بڑھانے کی منظوری، انسداد پرتشدد انتہاپسندی ایکٹ 2025 میں ترمیم کی منظوری، اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 میں ترمیم کی منظوری، جدید صوبائی ٹریفک مینجمنٹ اینڈ کمانڈ سینٹر کے قیام کی منظوری، داتا دربار ہسپتال کا انتظام محکمہ اوقاف کے زیر کنٹرول لینے کی منظوری دے دی گئی ۔ اس کے علاوہ پنجاب جنرل انشورنس کمپنی کے قیام کی منظوری، گارمنٹ سٹی اور مختلف انڈسٹریل زونز میں پلاٹوں کی لیز، کرائے کے قواعد و ضوابط کی منظوری، سپیشل اکنامک زونز کی سہولت کیلئے ایل ڈی اے لینڈ یوز رولز میں ترمیم کی منظوری، سپیشل سلیکشن کمیٹی کے ذریعے ٹیچنگ سٹاف کی کنٹریکٹ پر تعیناتی کی منظوری، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں نئی بھرتیوں پر پابندی ختم کرنے کی منظوری، چیف منسٹر اسٹروک انیشیٹو'' (فالج سے بچاؤ کا منصوبہ) کی منظوری، ایکوا کلچر اتھارٹی آف پنجاب کے قیام کی منظوری دیدی گئی۔ 

شرمپ سٹیٹس کے قیام کیلئے جنگلات کی اراضی کی منتقلی کی منظوری، اے ڈی پی میں دیگ نالہ پر فلڈ بند کی تعمیر کے منصوبے کی شمولیت کی منظوری، کسانوں کی شمولیت کیلئے ای ڈبلیو آر، کموڈٹی ٹریڈنگ سسٹم کے لیے فنڈز کی منظوری، اے ڈی پی میں راجن پور اور ڈی جی خان کے ہل ٹورنٹس کے منصوبوں کی شمولیت کی منظوری، یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے والے سرکاری کالجوں کے اصل ناموں کی بحالی کی منظوری، نیشنل جوڈیشل پالیسی کے تحت جوڈیشل افسران کیلئے نظرثانی شدہ مراعات کی منظوری، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے کی ادائیگی کی منظوری، لالہ موسیٰ سے مائیوانہ تک سڑک کی تعمیر کیلئے اضافی فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے لالہ موسیٰ سے موئیوانہ تک سڑک جلد از جلد تعمیر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سلطان فاؤنڈیشن کیلئے سرکاری زمین کی لیز میں توسیع کی منظوری، یو ای ٹی سب کیمپس نارووال کو اپگریڈکرکے یونیورسٹی آف انجینئرنگ نارووال بنانے کی منظوری، پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز 2025 کے رول 91 میں ترمیم کی منظوری، پنجاب ڈیلی گیشن آف فنانشل پاورز رولز 2016 میں ترمیم کی منظوری، پنجاب انفورسمنٹ ایکٹ 2024 کے شیڈول میں مختلف اداروں کی شمولیت کی منظوری، تحصیل حضرو، ضلع اٹک میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے قیام کی منظوری، موٹر وہیکل رولز 1969 میں ترمیم اور جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ کے اجرا کی منظوری، منڈی ٹاؤن، بھکر میں ٹی ڈی اے کوارٹرز کی الاٹمنٹ کو مستقل کرنے کی پالیسی کی منظوری، چیف منسٹر مینارٹی کارڈ کے مستحقین میں اضافے اور اضافی فنڈز کی منظوری، شیخوپورہ میں 500 ملین روپے کی ترقیاتی سکیموں کی اے ڈی پی میں شمولیت کی منظوری، ضلع ساہیوال اور میانوالی میں سڑکوں کی بحالی کی اضافی سکیموں کی منظوری، ضلع فیصل آباد میں سڑکوں کی بحالی کی مزید سکیموں کی منظوری، ترقیاتی اسکیموں کے لئے فنڈز کی فراہمی کی منظوری دے دی گئی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ 2026 میں عطیات کی منظوری، ہائٹیک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تعیناتی کی منظوری، انوائرمنٹل ٹربیونل کے چیئرپرسن کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کی منظوری، لاہور گیریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تعیناتی کی منظوری، کنسولیڈیشن آف ہولڈنگز (منسوخی) ایکٹ 2026 کی منظوری، تحصیل کوٹ چھٹہ، ضلع ڈیرہ غازی خان میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے قیام کی منظوری، سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 میں ترمیم کی منظوری دے دی گئی ۔ 

اجلاس میں بینک آف پنجاب کو ''کلین ایئر پروگرام'' کیلئے مالیاتی ایجنٹ قرار دینے کی منظوری، پنجاب کے لئے نیو انرجی وہیکل پالیسی کی منظوری، پنجاب بوائلرز اینڈ پریشر ویسلز سیفٹی بورڈ کی تشکیل نو کی منظوری، پی ایس ٹی ایس کے مختلف رولز 2012 میں ترامیم کی منظوری، پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2012 میں ترامیم کی منظوری، پنجاب کریمنل پراسیکیوشن سروس انسپکٹریٹ ایکٹ 2018 میں ترمیم کی منظوری، ضلع قصور میں اے ڈی پی کی سڑک کے منصوبے کی تبدیلی کی منظوری، بھوربن مری میں ٹی ایچ کیو ہسپتال کے قیام کے لیے زمین کی ضرورت کی حد میں نرمی کی منظوری، پاکستان کے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور پالیسی فریم ورک کی منظوری، لیبر کورٹس لاہور اور راولپنڈی میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کی منظوری، محتسب پنجاب کے دفتر میں تعیناتی کی منظوری دیدی گئی۔ اس کے علاوہ مظفر گڑھ میں پہلے شرمپ سٹیٹ کے مقام اور نام کی تبدیلی کی منظوری، ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف کیلئے 150 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس کے خاتمے کی منظوری، محکمہ داخلہ کی آپریشنل ضروریات کیلئےفنڈز کی تخصیص کی منظوری، سٹیمپ ایکٹ 1899 میں ترامیم اور دیہی علاقوں میں اسٹیمپ ڈیوٹی کو معقول بنانے کی منظوری دے دی گئی۔ 

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ جو پنجاب میں صنعت لگانا چاہتا ہے، ضرور لگائے، مکمل معاونت کریں گے، صنعت کار اپنا کنسٹرکشن پلان لے کر آئیں، انڈسٹری لگانے کا عمل بالکل آسان بنایا جائے، انڈسٹری کیلئے این او سیز،دیگر منظوریوں میں کوئی رکاوٹ یا مسائل پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے خرچ کر کے بعد میں بل بھیج دینا کسی صورت قبول نہیں، ہر خرچے سے پہلے آگاہ کیا جائے۔ 

مریم نواز نے مزید کہا کہ حکومت پر واجبات کا بوجھ لادنے کی ذہنیت برداشت نہیں کروں گی، تمام مالی واجبات کو کلیئر کریں، حکومت کام کروالے اور ادائیگی نہ کرے، یہ مجھے قطعاً قبول نہیں۔