سٹی 42:بلوچستان حکومت کا بڑا کفایت شعاری پیکج، اخراجات میں نمایاں کمی کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کابینہ کا خصوصی اجلاس، کفایت شعاری اقدامات کی منظوری دے دی ۔ اجلاس میں گورنر بلوچستان، اسپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کی خصوصی شرکت کی ۔
کفایت شعاری مہم کا آغاز چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے شروع ، آٹھ سو کے لگ بھگ غیر ضروری آسامیاں تحلیل کردی گئیں ، بلوچستان حکومت کا سرکاری اخراجات کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے جامع پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ صوبائی وزراء، مشیران اور پارلیمانی سیکرٹریز دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے،اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کی منظوری دی گئی ۔
گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے اعلیٰ افسران بھی دو دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر دیں گے،صحت اور تعلیم کے شعبوں کے ملازمین کو تنخواہوں کی کٹوتی سے استثنیٰ کا فیصلہ کیا گیا۔
سرکاری اجلاس اب زیادہ تر ویڈیو لنک کے ذریعے ہوں گے، غیر ضروری سفری اخراجات ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں پر پابندی عائد کردی گئی، سیمینارز اور ٹریننگز کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ۔
سرکاری دفاتر میں چار روزہ ورک ویک متعارف، پچاس فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا، نجی شعبے کو بھی آدھا عملہ گھر سے کام کروانے اور چار روزہ دفتری ہفتہ اپنانے کی تجویز اورصوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں 23 مارچ 2026 تک بہار کی تعطیلات کا اعلان کردیا ۔
امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے، تعطیلات کا اطلاق امتحانات پر نہیں ہوگا ۔شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود، صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی ،ہائی ویز پر گاڑیوں کی رفتار 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا مشکل معاشی حالات میں حکومت نے خود مثال قائم کی ہے، وسائل عوامی فلاح پر خرچ ہوں گے، قومی وسائل کے ضیاع کی گنجائش نہیں، تمام ادارے کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عمل کریں،۔