ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدالتوں میں چار روزہ ورکنگ ہفتہ نافذ

 لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدالتوں میں چار روزہ ورکنگ ہفتہ نافذ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ نے پیٹرول اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں چار روزہ ورکنگ ہفتہ نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کیا ،فیصلے کے تحت لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کی تمام ضلعی عدالتوں میں پیر سے جمعرات تک باقاعدہ عدالتی کام ہوگا، جبکہ جمعہ اور ہفتہ کے روز صرف ہنگامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کی بچت اور سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے پرنسپل سیٹ اور اس سے منسلک بینچز میں عدالتیں پیر سے جمعرات تک معمول کے مطابق کام کریں گی جبکہ دفاتر میں عملہ گردش کی بنیاد پر پچاس فیصد حاضری کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دے گا۔اسی طرح ارجنٹ سیل نئے مقدمات کے اندراج کے لیے پیر سے جمعرات تک پچاس فیصد عملے کے ساتھ فعال رہے گا جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو صرف دس فیصد عملہ ہنگامی نوعیت کے کام نمٹانے کے لیے موجود ہوگا۔ سیکیورٹی اہلکار اور صفائی کا عملہ پیر سے ہفتہ تک چوبیس گھنٹے دستیاب رہے گا۔ضلعی عدالتوں کے حوالے سے ہدایت کی گئی ہے کہ پیر سے جمعرات تک معمول کے مطابق عدالتی امور انجام دیے جائیں گے، جبکہ جمعہ اور ہفتہ کے روز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں پچیس فیصد عدالتیں اور عملہ گردش کی بنیاد پر صرف فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت کریں گے۔ تحصیل سطح پر بھی ایک ڈیوٹی جج ہنگامی مقدمات کے لیے موجود ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں ججوں کے پی او ایل (پیٹرول، آئل اور لبریکنٹس) الاؤنس میں کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کے لیے مختص ایندھن الاؤنس میں پچاس فیصد جبکہ عدالتی افسران اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کے لیے پچیس فیصد کمی کی جائے گی۔
پروٹوکول اور سیکیورٹی کے حوالے سے بھی نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق ہائی سیکیورٹی زونز میں نقل و حرکت کے دوران اضافی پروٹوکول یا سیکیورٹی گاڑیاں تعینات نہیں کی جائیں گی، تاہم متعلقہ ادارے روٹ سیکیورٹی کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔یہ نوٹیفکیشن رجسٹرار ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور اس کی کاپیاں متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو آگاہی اور عملدرآمد کے لیے ارسال کر دی گئی ہیں۔

 
 

Ansa Awais

Content Writer