سٹی42: وزیراعظم نے پاکستان پیپلزپارٹی کو یقین دہانی کرائی ہےکہ نئی نہروں کے حوالے سے سندھ کے مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیاجائےگا۔
یہ بات منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک نیوز چینل کے شو میں بتائی۔
احسن اقبال نے اصرار کیا کہ پاکستان کے حوالے سے منفی رپورٹس کے پیچھے پی ٹی آئی کی ایک گہری اور منظم مہم ہے، دہشت گردی کی واپسی بھی پی ٹی آئی کا تحفہ ہے جو ٹی ٹی پی کو واپس لے کر آئی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ملاقات میں دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے پیر کی شام بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے سینئیر لیڈرز کے اعزاز افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ احسن اقبال اس افطار کے موقع پر ہونے والی بات چیت کا حوالہ دے رہے تھے۔
نہروں کی تعمیر کے متعلق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خلافِ توقع وفاقی حکومت کو سخت تنبیہہ کی تھی اور یہ وارن کیا تھا کہ یہ ایشو وفاق کے استحکام پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کے اس خطاب کے تناظر میں احسن اقبال نے جن کا تعلق بارانی سرحدی علاقہ نارووال سے ہے، یہ دعویٰ کیا کہ نہروں کی تعمیر کی مخالفت دراصل مین سٹریم سے نکلے ہوئے سیاستدان کر رہے ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی جانب سے اس منصوبہ کی یہ توجیہہ پیش کی کہ پیپلز پارٹی اس لیے یہ مسئلہ اُٹھارہی ہےکہ اس کے صوبے میں اس مسئلے کو بے جا اٹھایا جا رہا ہے۔
نہروں کی تعمیر کے حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت سندھ میں ہونے والی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے دریائے سندھ کو پانی دینے والے دریائے ستلج پر
پیپلزپارٹی کا مؤقف
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کی مخالفت کے باوجود چولستان کینال کی منظوری پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے مصروف تھا وفاقی حکومت نے سندھ کی مخالفت کے باوجود چولستان کینال کی منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق پیر کی شام ہونے والے افطار ڈنر میں نہروں کے معاملہ پر کوئی بریک تھرو نہیں ہوا البتہ نہایت سرسری بات ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے۔
نہروں کا ایشو ہے کیا
پاکستان کی معیشت قرضوں کی واپسی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے نڈھال ہو چکی ہے، صنعتی اور زرعی پیداوار کے موجود ذرائع، ٹیکس جمع کرنے کے تمام ممکنہ مواقع مل ملا کر بھی معیشت کو قرضوں کی واپسی اور پچیس کروڑ عوام کو پالنے کے قابل بنانے سے قاصر ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے زراعت کی بنیاد کو وسیع کرنے، کئی ملین بے کار پڑی زمین کو زیر کاشت لا کر جی ڈی پی بڑھانے اور زرعی معیشت کو جدید کاری کے ذریعہ زیادہ منافع بخش بنانے کے بڑے منسوبہ کی خدوخال تشکیل دیئے۔ زرعی معیشت کی بنیاد وسیع کرنے کے منصوبہ کا ایک اہم فیکٹر صحرائی زمینوں کے لئے پانی کی فراہمی ہے، اس مقصد کے لئے نئی نہروں کی کھدائی کے بہت پرانے آئیڈیا پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس آئیڈیا میں گریٹر تھل کینال اور چولستان کینال فیز ون پر سندھ کے باشندوں کو اکراس دی بورڈ اتفاق رائے کے ساتھ اختلاف ہے۔
یہ نہریں کہاں کہاں تعمیر کی جائیں گی
گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ہنگامی بنیادوں پر دریائے سندھ پر چھ نہروں کی تعمیر کو مکمل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جن کو اسٹریٹجک کینالز بھی کہا جا رہا ہے۔
ان نہروں کے ذریعے کم سے کم 35 لاکھ ایکڑ زمین آباد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان میں دو، دو نہریں پنجاب اور سندھ جب کہ ایک، ایک سندھ اور خیبرپختونخوا میں بنائی جائے گی۔
اسٹریٹجک کینال کے اس نیٹ ورک میں چار نہریں پہلے ہی تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں جب کہ پنجاب میں چولستان کینال اور گریٹر تھل کینال فیز ٹو پر ابھی کام شروع نہیں ہوا۔
پنجاب میں چولستان کے علاقے میں دی گئی صحرائی زمین کو سیراب کرنے کے لیے 211 ارب روپے کی لاگت سے چولستان کینال بنائی جا رہی ہے جسے پنجاب اپنے حصے سے پانی دے گا۔
چولستان کینال سے بہاول نگر، بہاولپور کے ریگستان یعنی چولستان میں چھ لاکھ ایکڑ سے زائد بنجر زمین آباد ہو سکے گی۔ اسی طرح گریٹر تھل کینال فیز ٹو سے 15 لاکھ ایکڑ زمین آباد کی جائے گی۔
'سندھ نے چولستان کینال کی مخالفت کی تھی'
سندھ میں کاشت کاروں کو سب سے زیادہ اعتراض چولستان کینال فیز ون منصوبے پر ہے جس سے اُن کے خیال میں سندھ کو دستیاب پانی کم ہو جائے گا۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے رُکن احسان لغاری کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت میں ارسا نے کثرتِ رائے سے پنجاب حکومت کے منصوبے چولستان کینال کے لیے این او سی دیا تھا لیکن سندھ نے اس کی مخالفت کی تھی۔
احسان لغاری نے کہا کہ چولستان کینال کی تعمیر سے سندھ اور بلوچستان تو متاثر ہوں گے، مگر پنجاب کی سرائیکی بیلٹ کی آباد زمینوں کی لیے بھی پانی کم ہو جائے گا۔
پنجاب کا کہنا ہے کہ وہ ان نئی نہروں میں پانی اپنے کوٹے سے دے گا۔ ارسا کے افسران نے بھی تصدیق کی ہے کہ گریٹر تھل کینال اور چولستان کینال کو اپنے حصے سے پانی دینے کے لیے پنجاب حکومت نے ارسا کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے۔
احسن اقبال کا اس منصوبہ میں عمل دخل
احسن اقبال "منصوبہ بندی اور ترقی" کے وزیر تو ہیں لیکن گرین پاکستان انی شئیٹو ان کا منصوبہ نہیں، وہ اس بہت بڑے منسوبہ میں عملاً کچھ نہیں ہیں۔ ایس آئی ایف سی اس سارے منصوبہ کو دیکھ رہی ہے اور وہین تمام فیصلے ہو رہے ہیں۔
کارپوریٹ فارمنگ کا کمپوننٹ
گزشتہ برس وفاقی حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) تشکیل دی تھی جس میں متعلقہ حکومتی اداروں کے علاوہ فوج کے سربراہ کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
اسی ک پلیٹ فارم پر ہونے والی مشاورتوں کے تحت 'گرین پاکستان انیشی ایٹو' شروع کیا گیا ہے جس کے تحت فوج خود بھی مجموعی طور پر 48 لاکھ ایکڑ بنجر زمین حکومت سے لیز پر لے گی اور اسے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بنجر علاقوں میں پانی پہنچانے کے لیے دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالی جائیں گی۔
'کارپوریٹ فارمنگ' زراعت کا ایسا نظام ہے جس کے تحت بڑے کاروباری ادارے یا کارپوریشن کے تحت زرعی مصنوعات کی پیداوار کو منظم کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ کاشتکاری پاکستان میں مروج چھوٹی زمینداری اور بری زمینداری دونوں سے بہت مختلف ہے اور اس میں پلاننگ سے لے کر عملدرآمد تک سب کچھ کارپوریٹ سیکٹر کی کاروباری پریکٹسز کے مطابق ہوتا ہے۔ اس طرز کاشتکاری کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے کم رقبے پر زیادہ پیداوار حاصل کرنا بھی ہے۔