سٹی 42: پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کے تبصرے پر پر وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی حقائق پر مبنی دو ٹوک جواب سامنے آگیا ۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیار پیٹرول مہنگا ہوا، اسی وجہ سے پاکستان میں بھی قیمت بڑھی، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تیار پیٹرول کی عالمی قیمت کے مطابق طے ہوتی ہے۔پاکستان میں پیٹرول کی قیمت سعودی آرامکو کے خام تیل کے نرخ دیکھ کر طے نہیں کی جاتی،
پیٹرول کی قیمت طے کرنے کے لیے عالمی منڈی میں تیار پیٹرول کے روزانہ نرخ دیکھے جاتے ہیں۔رواں ہفتے عالمی منڈی میں تیار پیٹرول کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے زیادہ رہی۔
جنگ سے پہلے 27 فروری 2026 کو تیار پیٹرول کی عالمی قیمت 76 ڈالر فی بیرل تھی۔جنگ سے پہلے کے مقابلے میں عالمی منڈی کا پیٹرول اب بھی تقریباً 12 ڈالر فی بیرل مہنگا ہے
بیرون ملک سے پیٹرول منگوانے پر کرایہ، انشورنس اور دیگر اضافی اخراجات بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد پیٹرول بیرون ملک سے خریدتا ہے، پاکستان کے پیٹرول نرخ سمجھنے کے لیے خام تیل نہیں بلکہ تیار پیٹرول کی عالمی قیمت دیکھنا ضروری ہے۔
پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی ملا کر اس وقت 85 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں،پیٹرولیم اور کاربن لیوی حکومت کی جانب سے فی لیٹر وصول کی جانے والی مقررہ رقم ہے جو بین الاقوامی کمٹمنٹ کے مطابق ہے۔جنگ سے پہلے 27 فروری 2026 کو دونوں لیویز ملا کر 86 روپے 90 پیسے فی لیٹر تھیں ۔پٹرولیم
موجودہ لیویز جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بڑھی نہیں بلکہ تقریباً دو روپے فی لیٹر کم ہیں۔پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی کے روزانہ نرخ جمع کرکے ان کی اوسط کے مطابق طے کی جاتی ہے،قیمتوں کے تعین کا طریقہ واضح اور سب کے سامنے ہے، حکومت اپنی مرضی سے کوئی ریلیف نہیں روکتی،صرف ایک دن یا خام تیل کی ایک قیمت دیکھ کر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
عالمی منڈی میں تیار پیٹرول سستا ہوگا تو اس کا فائدہ پاکستان میں صارفین کو بھی ملے گا۔حکومت عوام کو عالمی قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ منتقل کرنے کے عزم پر قائم ہے، پیٹرول کی قیمتوں پر بحث کرتے وقت درست عالمی قیمت اور پاکستان کی درآمدی ضرورت کو سامنے رکھنا چاہیے۔حقائق کو نظر انداز کرکے یہ کہنا مناسب نہیں کہ حکومت جان بوجھ کر پیٹرول مہنگا رکھ رہی ہے، متبادل پالیسی اختیار کی جاتی تو ملکی معیشت اور عوام کے لیے نتائج کہیں زیادہ نقصان دہ ہوتے،۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔