ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

الجزائر اور نائجیریا میچ کے بعد ہنگامہ، فٹبال اسٹیڈیم میدان جنگ بن گیا

الجزائر اور نائجیریا میچ کے بعد ہنگامہ، فٹبال اسٹیڈیم میدان جنگ بن گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: افریقہ کپ آف نیشنز (AFCON) 2025 کے کوارٹر فائنل میں نائجیریا کے ہاتھوں شکست کے بعد الجزائر اور نائجیریا کے کھلاڑیوں کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی،  تنازع کا مرکز الجزائر کے گول کیپر لوکا زیدان بنے، جو عالمی شہرت یافتہ فٹبالر زین الدین زیدان کے بیٹے ہیں۔

ہفتے کے روز مراکش کے شہر  میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میں نائجیریا نے الجزائر کو 2-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ نائجیریا کی جانب سے دونوں گول دوسرے ہاف میں کیے گئے، اس فتح کے ساتھ ہی الجزائر کا ٹورنامنٹ کا سفر اختتام پذیر ہوگیا۔

میچ ختم ہوتے ہی حالات کشیدہ ہوگئے، الجزائر کے کھلاڑیوں نے ریفری کے فیصلوں پر شدید احتجاج کیا، خاص طور پر پہلے ہاف میں ہونے والے ایک مبینہ ہینڈ بال کو نظر انداز کیے جانے پر ناراضگی ظاہر کی گئی۔ صورتحال اس قدر خراب ہوگئی کہ ریفری کو اپنی حفاظت کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں میدان سے باہر لے جانا پڑا۔

تنازع مزید اس وقت بڑھ گیا جب لوکا زیدان غصے میں آکر ایک نائجیرین کھلاڑی کو پکڑتے ہوئے نظر آئے،دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آفیشلز نے فوری مداخلت کر کے معاملے کو مزید بگڑنے سے روکا۔

میچ کے بعد کشیدگی صرف میدان تک محدود نہ رہی بلکہ اسٹیڈیم کے اندرونی راستوں میں بھی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ الجزائر کے کچھ کھلاڑیوں نے میچ ریفری پر حملہ کیا، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

27 سالہ لوکا زیدان نے چند ماہ قبل ہی فرانس کے بجائے الجزائر کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی خاصی متاثر کن رہی۔ کوارٹر فائنل سے قبل وہ تین میچز میں کلین شیٹس رکھ چکے تھے۔

نائجیریا کی اس جیت کے ساتھ سپر ایگلز نے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی، جبکہ الجزائر ایک تنازعہ بھرے اختتام کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔