ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حکومتی وعدے اور فنڈز کی تقسیم میں دیر

تحریر:زین مدنی حسینی 

حکومتی وعدے اور فنڈز کی تقسیم میں دیر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب کی فلم اور تھیٹر انڈسٹری اس وقت شدید مالی بحران، غیر یقینی صورتحال اور حکومتی وعدوں کی تاخیر کا شکار ہے حالانکہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہمیشہ فنکار نواز رہی ہے اور ہر دور میں فنکاروں کو عزت، روزگار اور سپورٹ دی گئی ہے، ماضی میں بھی فنکاروں کے کئی دیرینہ مسائل اسی دور حکومت میں حل ہوئے اور ثقافت کو ریاستی سطح پر وہ اہمیت ملی جس کے وہ واقعی مستحق تھے، سال 2025 میں حکومت پنجاب نے فلم انڈسٹری کو سہارا دینے کے لیے دو ارب روپے کے خصوصی فنڈ کا اعلان کیا جس کا مقصد پنجابی فلموں کی بحالی، نئے فلمی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور فلمسازوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنا تھا.

 اس اعلان کے بعد باقاعدہ طور پر درخواستیں طلب کی گئیں اور فلمسازوں نے حکومتی پالیسی پر اعتماد کرتے ہوئے تمام تقاضے پورے کیے مگر اب سال 2026 آ چکا ہے اور دوسرا مہینہ بھی آدھا گزرنے کے قریب ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک کسی ایک فلمساز کو بھی اس اعلان کردہ فنڈ میں سے کوئی رقم موصول نہیں ہو سکی، دوسری جانب غریب، نادار اور مستحق فنکاروں کے لیے قائم آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس فنڈ کی رقم کو پانچ ہزار سے بڑھا کر دس ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا جو یقیناً ایک مثبت قدم تھا مگر عملی طور پر یہ اعلان بھی اعلان ہی ثابت ہوا کیونکہ آخری ادائیگی جولائی 2025 میں کی گئی تھی اور اس کے بعد سے فنکار شدید مشکلات میں مبتلا ہیں، روزانہ کئی غریب نادار فنکاروں کے فون آتے ہیں کہ زین مدنی صاحب فنڈز کب ملیں گے حالات بہت خراب ہیں، اداکارہ شیبا بٹ جو دل کی مریضہ ہیں انہیں ادویات میسر نہیں، اداکارہ عابدہ بیگ بیماری کی وجہ سے تھیٹر ڈرامے نہیں کر پا رہیں اور ساتھ ہی گھریلو مسائل اور قبضہ گروپ جیسے سنگین حالات کا سامنا کر رہی ہیں، معروف اداکار ببو برال کی بیوہ بھی شدید پریشانی میں ہیں اور ان سے مسلسل رابطہ ہے، اداکار راشد محمود جو مہروں کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں حالانکہ وہ انتہائی باوقار، سادہ اور خوددار انسان ہیں اور کبھی کسی سے مدد نہیں مانگی مگر ان کی خدمات اور اسکور پاکستان شوبز انڈسٹری کے لیے ایک بڑا سرمایہ ہیں اور ایسے فنکاروں کے لیے حکومت کو خود آگے بڑھ کر سپورٹ کرنی چاہیے، جب اس پورے معاملے کی تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں کئی بوگس فنکار شامل ہو گئے تھے جس کے باعث سکروٹنی کا عمل شروع کیا گیا، بلاشبہ شفافیت ناگزیر ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس عمل کی سزا ان فنکاروں کو کیوں دی جا رہی ہے جو واقعی مستحق ہیں، مسلم لیگ ن کی حکومت اور بالخصوص صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری صاحبہ بھی فنکار نواز ہیں، انہوں نے ثقافت کو بھرپور انداز میں پروموٹ کیا، تھیٹر کے کئی مسائل حل کیے اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں مگر شاید آپ تک آپ کے محکمے کی جانب سے درست اور زمینی حقائق پر مبنی رپورٹس نہیں پہنچ پا رہیں کیونکہ ایک وزیر تک رسائی ایک عام شہری کے لیے کس قدر مشکل ہوتی ہے یہ بات آپ بھی بخوبی جانتی ہیں، آپ کے بھی پروٹوکولز ہیں، مصروفیات ہیں اور سرکاری حدود ہیں، ایسے میں ایک غریب، نادار اور مستحق فنکار آخر کیسے آپ تک پہنچ کر اپنے مسائل بیان کرے، گزارش ہے کہ عظمیٰ بخاری صاحبہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مستحق فنکاروں پر رحم کریں، سکروٹنی کا عمل جاری رکھیں، میٹنگز بھی چلتی رہیں مگر جو واقعی حقدار ہیں انہیں فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں کیونکہ فنکار کسی خیرات کے طلبگار نہیں بلکہ اپنے اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا وعدہ ریاست نے خود ان سے کیا تھا، اگر حکومت پنجاب نے بروقت عملی اقدامات نہ کیے تو اس تاخیر کا نقصان صرف فنکاروں کو نہیں بلکہ پنجاب کی فلم، تھیٹر اور ثقافتی شناخت کو بھی پہنچے گا جسے بحال کرنا پھر کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔