ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں فیصل آباد جیل کی اراضی سے متعلق اہم مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے حکومت پنجاب کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کو معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے 30 روز کی مہلت دے دی.
جسٹس جاوید اقبال وینس نے شہری سرفراز احمد کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا کہ وہ سال 2000 تک فیصل آباد میں جیل سپرنٹنڈنٹ کے طور پر تعینات رہے، تاہم اس عرصے کے دوران فیصل آباد جیل کی اراضی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا تھا۔درخواست گزار کے والد کو جو اراضی الاٹ کی گئی تھی وہ فیصل آباد جیل کے فرنٹ پر واقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر جیل کے فرنٹ والے حصے کا قبضہ درخواست گزار کو دے دیا گیا تو جیل میں آنے جانے کا راستہ ہی بند ہو جائے گا، جس سے جیل کے انتظامی امور شدید متاثر ہوں گے۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے عدالت کو مزید بتایا کہ حکومت پنجاب نے 67 کنال الاٹ شدہ اراضی کے معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو اراضی الاٹمنٹ سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لے گی اور اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔دوسری جانب درخواست گزار سرفراز احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے والد کو ان کی جنگی خدمات کے اعتراف میں سال 1964 میں 67 کنال اراضی الاٹ کی گئی تھی، تاہم جیل انتظامیہ طویل عرصے سے اس الاٹ شدہ اراضی کا قبضہ دینے سے انکار کر رہی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں قانونی طور پر الاٹ ہونے والی اراضی کا قبضہ دلوانے کا حکم دیا جائے۔فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کو مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔