سٹی42: حماس کے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کا عمل روکنے کے اعلان کے کچھ گھنٹے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں جنگ بندی کروانے کے لئے دی گئی تمام دھمکیوں سے بڑی دھمکی پر مبنی تجویز دے دی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے وقت کے مطابق پیر کی شام یہ کہا کہ اگر حماس اس ہی ہفتےکے روز تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے تو جنگ بندی کو منسوخ کر دیا جائے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہفتے کو اگر رات 12 بجے تک تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ منسوخ کر دینا چاہیے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے کہا، ""تمام جہنم کو کھول دو،" "جہنم کو کھول دینا" یہ وہی دھمکی ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد وائٹ ہاؤس مین اقتدار ملنے تک درمیان کے دنوں مین بار بار دہرائی تھی اور دوحہ میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے حماس، اسرائیل اور ثالثوں کو 20 جنوری سے پہلے واقعی سیز فائر کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب ٹرمپ وہی دھمکی سیز فائر معاہدہ پر عملدرآمد روکنے کے ھماس کے اعلان کے بعد تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لئے دہرات رہے ہیں۔
یہ ابتہائی سخت بات حماس کے ترجمان کے یہ کہنے کے بعد ہوئی ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی روک رہی ہے۔
اس سخت دھمکی کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے یہ وضاحت کی کہ یہ صرف ان کی اپنی رائے ہے، ٹرمپ نے نوٹ کیا کہ یہ بالآخر اسرائیل پر منحصر ہے (کہ وہ کیا کرتا ہے)، اور مزید کہا کہ "میں اپنے لیے بول رہا ہوں۔ اسرائیل اسے اوور رائڈ (تبدیل) کر سکتا ہے۔"