جمال الدین جمالی :سانحہ نو مئی لاہور کے 2 مقدمات کا فیصلہ آج فیصلہ سنایاجائے گا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل کوٹ لکھپت جیل میں فیصلہ سنائیں گےجسےعدالت نے ملزمان کے وکلاء کی حتمی بحث کے بعدمحفوظ کیاتھا۔
جناح ہاؤس کے قریب راحت بیکری چوک میں پولیس کی گاڑی جلانے اور تھانہ شادمان نذر آتش کیس میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ ، میاں محمود الرشید،عالیہ حمزہ، صنم جاویداور عائشہ علی بھٹہ ملزمان میں شامل ہیں۔
راحت بیکری چوک میں پولیس کی گاڑی جلانے کے کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 16اورتھانہ شادمان نذر اتش کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 25 ملزمان کا ٹرائل ہوا،ملزمان کے وکلاء نے حتمی دلائل میں ملزمان کو بری کرنے کی استدعا کی،سرکار کی جانب سے پراسکیوٹر نیئر نوید نے ملزمان کو سخت سزا دینے کا استدعا کرتے ہوئے کہاکہ مقدمات میں ملک کیخلاف جنگ چھیڑنے اور بغاوت کی دفعات شامل ہیں،نو مئی کی سازش اور منصوبہ بندی 7 مئی کو زمان پارک میں کی گئی۔
گواہان کے مطابق راحت بیکری چوک میں انسپکٹر مجاہد حسین سمیت دیگر اہلکاروں کی گاڑی جلائی گئی،پولیس کی گاڑی میں موجود اینٹی رائٹس کا سامان بھی جلا دیا گیا ،کارکنان نے انسپکٹر مجاہد حسین اور ساتھی اہلکاروں کو تشدد کرکے زخمی کیا ،مشتعل کارکنان پولیس سے ایس ایم جی رائفل چھین کر بھاگ گئے تھے۔
راحت بیکری چوک میں پولیس کی گاڑی جلانے کے کیس 65 گواہان جبکہ تھانہ شادمان نذر آتش کیس میں 45 گواہان نے شہادت ریکارڈ کرائی۔
ایف آئی آرکے مطابق مشتعل کارکنان نے تھانہ میں لیڈی پولیس کو حراساں کیا ، تھانہ میں توڑ پھوٹ کی اور آگ لگائی ،تھانے کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی توڑا گیا اور آگ لگائی،میاں اسلم اقبال اور میاں محمود الرشید کی موجودگی میں تھانے کو جلایا گیا ۔
تھانہ شادمان کیس میں دوران ٹرائل غیر حاضری پر 15 ،تھانہ سرور روڑ کیس میں 8 ملزمان اشتہاری قرار دیئے گئے،دونوں مقدمات کے ایک ایک ملزم دوران ٹرائل فوت ہو گئے،میاں اسلم اقبال سمیت دیگر اشتہاری ملزمان کا ٹرائل دوسرے مرحلے میں ہو گا۔