ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پولیس چوکی میں کانسٹیبل محمد منیر کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزم سہراب رستم کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی۔ عدالت نے ملزم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت برقرار نہیں رکھی۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملزم سہراب رستم کی اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا۔مقدمے کے مطابق ملزم پر سابقہ دشمنی کی رنجش پر پولیس چوکی میں موجود کانسٹیبل محمد منیر کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد پسرور پولیس نے کانسٹیبل محمد منیر کے قتل کا مقدمہ 27 اکتوبر 2020 کو درج کیا تھا۔مقدمہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت رہا، جہاں پیش کیے گئے شواہد اور گواہان کے بیانات کی بنیاد پر ملزم کو سزائے موت سنائی گئی۔
ملزم نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اپنی سزا میں کمی یا بریت کی استدعا کی تھی۔لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کے دوران مقدمے کے ریکارڈ، شواہد اور پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے مواد کا جائزہ لیا۔عدالت نے قرار دیا کہ مدعی مقدمہ اور پراسیکیوشن ملزم کے خلاف سزائے موت برقرار رکھنے کے لیے عدالت کو مطلوبہ حد تک مطمئن نہیں کرسکے۔ عدالت نے دستیاب شواہد اور مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔