ملک اشرف : ہائیکورٹ نے زیرحراست ملزمان کےانٹرویوزکرانیوالوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا
عدالت نے میڈیاسےگفتگو کروانےوالےوارڈن، ایکسائزو پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا ،ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی دلائی کہ زیر حراست ملزموں کے انٹرویوز نہیں کرائے جائیں گے،
سی ٹی اوڈاکٹراظہروحید،ڈائریکٹرسائبرکرائم حشمت کمال بھی عدالت میں پیش ہوئی ، ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ ،ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان اور ڈی آئی جی لیگل اویس ملک عدالت میں پیش ہوئے
جسٹس علی ضیاباجوہ کی زیر صدارت شہری وشال احمد شاکر کی درخواست پر سماعت کی، جسٹس علی ضیا نے کہا وارڈن قانون کےمطابق چالان ضرورکریں،کیمرےکےسامنےویڈیوبنوائی توسخت کارروائی ہوگی،جسٹس علی ضیاباجوہ نے سوال کیا کہ ملزم کی ویڈیوبنائےبغیرکیاتفتیش نہیں ہوسکتی؟
ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نے کہا میرے خیال میں ملزم کی تشہیر مناسب نہیں،
عدالت نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کابھی اس حوالے سےفیصلہ آچکا، عملدرآمد کیلئےکیااقدامات کیے؟افسروں نے بتایا کہ فیلڈڈیوٹی افسران کومیڈیانمائندوں سےگفتگو نہ کرنےکی ہدایات دیدی ہیں۔
جسٹس علی ضیاباجوہ نے شہری وشال احمد شاکر کی درخواست منظور کرلی،عدالت اس درخواست پر تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی
Stay tuned with 24 News HD Android App