سٹی42: پاکستان میں میٹ ڈیپارٹمنٹ نے کل ہی یہ پیشگوئی کی ہے کہ سردی اکتوبر کے آخر میں بارشوں کے بعد آئے گی لیکن موسم کے اب تک سامنے آ رہے مظاہر بتا رہے ہیں کہ سردی اکتوبر کے خاتمہ سے پہلے شروع ہو جائے گی۔ ب
موسم کی بے ترتیبی کا ایک خطرناک اظہار ہمالیہ اور قراقرم کے طویل پہاڑی سلسلہ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک برف باری کا معمول کے وقتوں سے بہت پہلے ہو جانے سے ہوا ہے۔ پاکستان میں موسم کے سرکای ملازم اس اہم تبدیلی پر مکمل خاموش ہیں اور سردی جلد شروع ہونے کے غیر معمولی معاملہ پر بھی بس یہ کہنا کافی سمجھ رہے ہیں کہ اکتوبر کے آخر میں بارشین ہوں گی تو اس کے بعد سردی آئے گی۔ گزشتہ سال دسمبر کے وسط تک موسم میں حدت کا فیکٹر نمایاں تھا اور اس سال ستمبر کے جاتے ہی موسم نے پلٹا کھایا اور موسم مکمل بدل گیا۔ اس بدلاؤ کے اثرات پہاڑی علاقوں میں زیادہ اور پنجاب جیسے میدنی علاقوں میں قدرے کم ہیں لیکن یہ ہو چکا ہے۔
بھارت کی ہمالیہ کی چوٹیوں اور ترائیوں پر مشتمل شمالی ریاست ہماچل پردیش میں موسم کی مار اس وقت ظاہر ہوئی جب قبل از وقت برفباری سے سیب کی فصل برباد ہو گئی ہے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہماچل پردیش کی وادیٔ لاہول میں قبل از وقت برفباری نے سیب کے باغوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سینکڑوں درخت ٹوٹ گئے اور ہزاروں بری طرح متاثر ہوئے؛ فصل کے شدید نقصان کا اندیشہ لاحق ہو گیا۔ باغبان حکومت کی طرف مدد کے لئے دیکھنے لگے۔

تین دن سے مسلسل برفباری
ہماچل پردیش کی وادیٔ لاہول میں گزشتہ 3 دنوں سے جاری برفباری اور بارش نے سیب کے باغبانوں کی سال بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ اگرچہ اب موسم صاف ہو چکا ہے لیکن اس اچانک آنے والی قدرتی آفت نے سینکڑوں سیب کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔ درختوں کی شاخیں زمین پر بکھری ہوئی ہیں اور پکے ہوئے سیب گر کر خراب ہو گئے ہیں۔ باغبانوں کے چہروں پر مایوسی چھائی ہوئی ہے کیونکہ ان کی سال بھر کی محنت بے وقت برف باری کے ایک ہی جھٹکے سے ضائع ہو گئی۔
یہ برفباری ایسے وقت میں ہوئی جب باغبان اپنی فصل کو منڈیوں میں بھیجنے کی تیاری میں مصروف تھے۔ لاہول کے مقامی باغبان چیتن نے خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے تاجروں سے بات کر لی تھی اور مال روانہ کرنے والے تھے لیکن اب باغات کی حالت دیکھ کر دل رو رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سے امداد کی امید ہے تاکہ نقصان کی کچھ تلافی ہو سکے۔
ایسا موسم 2018 میں آیاتھا
کئی باغبانوں نے بتایا کہ اس سال کی صورتحال انہیں 2018 کی یاد دلاتی ہے، جب اسی طرح کی برفباری سے علاقے کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس بار بھی برف کی موٹی تہہ نے درختوں کو جھکا دیا، شاخیں ٹوٹ گئیں اور فصل زمین بوس ہو گئی۔
ضلع کے محکمہ باغبانی کے افسران نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق کروڑوں روپے کی سیب کی فصل اور سینکڑوں درخت برف کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ وہ جلد ہی مفصل رپورٹ تیار کریں گے تاکہ متاثرہ کسانوں کو سرکاری مدد فراہم کی جا سکے۔
ادھر ضلع انتظامیہ نے بھی نقصان کا سروے شروع کر دیا ہے۔ افسران مختلف گاؤں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ نقصانات کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ نقصان کے مکمل تخمینے کے بعد راحتی کام تیزی سے شروع کیے جائیں گے۔
باغبانوں نے حکومت سے فوری مالی امداد اور معاوضے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد قدم نہیں اٹھایا تو ان کی سال بھر کی آمدنی کا واحد ذریعہ ختم ہو جائے گا۔ لاہول گھاٹی میں باغبانی ہی مقامی لوگوں کی بنیادی روزی روٹی ہے، اور موجودہ تباہی نے ان کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں، بڑھتی ہوئی برفباری اور غیر متوقع بارشیں خطے میں باغبانی کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ مقامی لوگ اب حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں ان کا ہاتھ تھاما جائے گا اور تباہ شدہ باغات کی بحالی میں مدد دی جائے گی۔
