ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مجھے انعام اللہ نے فائدہ دیا، تواسے برطرف کیوں کیا، بشری بی بی کا 342 کا بیان

Bushra Bibi, Tosha Khana Case, Toshakhana Two Corruption Case, NAB reference , Accountability Court Islamabad,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بلغاریہ سے ملنے والے قیمتی زیورات کی انتہائی کم قیمت پر خرید اور مہنگے داموں فروخت کے معاملہ پر مبنی دوسرے توشہ خانہ کیس میں شریک ملزمہ بشریٰ بی بی نے بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق اپنا 342 کا حتمی بیان ریکارڈ کروا دیا۔

بشریٰ بی بی نے اپنے 342 کے بیان میں کہا کہ بلغاری جیولری سیٹ رولز کے مطابق ادائیگی کر کے اپنے پاس رکھا، انعام اللّٰہ شاہ کو صہیب عباسی سے کم قیمت لگانے کا کبھی نہیں کہا، انعام اللّٰہ شاہ پہلے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ میں ملازم تھا،  پھر وہ  وزیرِاعظم ہاؤس میں بھی ملازم تھا۔ انعام اللّٰہ شاہ کو دو جگہوں سے تنخواہیں لینے پر برطرف کیا۔

 بشریٰ بی بی نے اپنے بیان میں ایک موقع پر یہ استدلال اختیار کیا، " فرض کریں انعام اللّٰہ نے مجھے قیمت کم لگانے پر 3 ارب 20 کروڑ کا فائدہ دیا، فرض کریں مئی 2021ء میں اگر مجھے فائدہ دیا گیا، پھر جولائی 2021ء میں صرف 70 ہزار زیادہ تنخواہ لینے پر انعام اللّٰہ کو برطرف کیوں کر دیا۔"  

بشریٰ بی بی نے ریکارڈ کروائے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا،  ہمارے خلاف پراسیکیوشن کے کیس کے حقائق  درست نہیں۔ یہ معاملہ نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ملزمہ  بشریٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ "اٹلی سے لگائی گئی قیمت کو بطور شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا." چیئرمین نیب نے اختیار کے بغیر  23 مئی 2024ء  کو وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی کو معافی دی۔  انعام اللّٰہ شاہ کے ذریعے صہیب عباسی کو کم قیمت لگانے کا پیغام دینے کا الزام درست نہیں۔ ایف آئی اے نے کبھی تحقیقات نہیں کیں۔

ملزمہ بشریٰ بی بی نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من گھڑت رپورٹ جمع کرائی گئی۔ توشہ خانہ ون کیس میں گواہ انعام اللّٰہ اور صہیب عباسی نے بلغاری سیٹ کا کہیں ذکر نہیں کیا تھا۔ 

ملزمہ بشریٰ بی بی نے اپنے  342 کے بیان میں یہ بھی کہا، " میں پردہ نشین خاتون ہوں کبھی کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا."  اس کے ساتھ انہوں نے کہا، "میں نے انعام اللّٰہ شاہ کو قیمت کم لگانے سے متعلق کبھی نہیں کہا۔"

بشریٰ بی بی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے آرڈر میں لکھا ہے ایف آئی اے کے پاس کیس کرنے کا کوئی اختیار نہیں، ایک ہی جرم پر بار بار سزا نہیں دی جاسکتی، جس طرح توشہ خانہ میں کیا جارہا ہے، ایف آئی اے کو ممنوعہ فنڈنگ کیس، سائفر سے کچھ نہیں ملا تو اب یہ کیس بنا دیا ہے۔