ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا سموگ تدارک پر حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار

لاہور ہائیکورٹ کا سموگ تدارک پر حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سموگ کے تدارک کے لیے حکومتی و انتظامی اداروں کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر مؤثر اقدامات تین ماہ پہلے شروع کر دیے جاتے تو آج حالات بہت بہتر ہوتے۔ 

جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ حکومت اور متعلقہ محکمے ہر سال اکتوبر میں جاگتے ہیں اور وہی پرانی باتیں دہرا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ “اگر کام فروری یا مارچ سے شروع کیا جاتا تو آج عوام سموگ سے اس قدر متاثر نہ ہوتے،” عدالت نے ریمارکس دیے۔ڈیجیٹل بورڈز اور پارکوں میں تجارتی سرگرمیوں پر برہمی  کیا ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نے لاہور شہر میں لگائے گئے ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ بورڈز پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا “یہ بورڈز نہ صرف ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں بلکہ شہر کی خوبصورتی کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔”اسی دوران جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کی جانب سے پارکوں میں باربی کیو ریسٹورنٹس اور پیڈل کورٹس کے قیام پر بھی  سخت برہمی کا اظہار کیا,جسٹس  شاہد کریم نے  ریمارکس کہ “قانون سے ہٹ کر پارکس کو آمدنی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پارک عوام کے لیے تفریحی مقامات ہیں، تجارتی سرگرمیوں کے لیے نہیں۔”عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ پیڈل کورٹ کے لیے کتنی جگہ درکار ہوتی ہے؟پی ایچ اے کے وکیل نے جواب دیا کہ تقریباً دو کنال زمین درکار ہوتی ہے۔جسٹس شاہد کریم نے مزید ریمارکس کہ “آٹھ کنال کے پارک میں سے دو کنال پر کورٹ بنانا پارک کے ماحول کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔”عدالت نے محکمہ ماحولیات کی کارکردگی پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  ریمارکس دیے کہ “محکمہ ماحولیات بھی بیمار ہو گیا ہے، ابھی تک جاگے نہیں۔ دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کب شروع ہوگی؟”سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب بھر میں 46 مقامات پر چیکنگ پوائنٹس قائم کیے جا چکے ہیں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ  ٹھوکر نیاز بیگ سے موٹروے میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی آج ہی چیکنگ شروع کی جائے۔ ماحولیاتی کمیشن نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ رات 11 بجے کے بعد شہر میں ہیوی ٹریفک کی آمد و رفت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث آلودگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔کمیشن کے رکن نے کہا کہ شہر میں ہیوی ٹریفک کی مانیٹرنگ کے لیے مناسب نظام موجود نہیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ جوڈیشل کمیشن کے ارکان ان 46 مقامات کا دورہ کریں جہاں ٹریفک پولیس کو تعینات کیا گیا ہے، تاکہ کارروائی کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔
,،جسٹس شاہد کریم نے حکومت سے فروری اور مارچ سے آگے کا جامع پلان طلب کرتے ہوئے  ریمارکس  دئیے کہ “ایک ماہ میں اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا، مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔”عدالت نے ریمارکس دیے کہ “قانون توڑ کر ریونیو جنریٹ نہیں کیا جا سکتا۔ پارکوں کا قدرتی ماحول متاثر کر کے پیسہ کمانا غیر قانونی ہے۔”عدالت نے یاد دلایا کہ پی ایچ اے کے ریسٹورنٹس سے متعلق پہلے بھی عدالت کے فیصلے موجود ہیں، جن پر عمل درآمد نہ ہونا افسوسناک ہے۔,,ڈی آئی جی موٹر وے عمران شاہد ، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ ، ایل ڈی اے ، ہی ایچ اے ، ماحولیات سمیت دیگر محکموں کے نمائندے عدالت کے روبرو پیش ہوئے ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں سے تازہ رپورٹ طلب کر لی۔

Ansa Awais

Content Writer