ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی الیکشن جلد کروانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ  

وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی الیکشن جلد کروانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ  
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احتشام کیانی )اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
 جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن نہ ہونے سے نظام کا بیڑا غرق ہو گیا ہے، نہ کوئی پراپرٹی ٹیکس لگ سکتا ہے نہ کوئی کام سیدھا ہو رہا ہے، 2021 سے قانون کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے جبکہ حیرت ہے کہ جنہوں نے ایک دن میں الیکشن کا فیصلہ دیا،انہوں نے ہی بعد میں اسے معطل کر دیا۔
 جسٹس کیانی نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ پارلیمان تو 27ویں آئینی ترمیم میں مصروف ہے، اس لیے مزید قانون سازی مشکل ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ بلدیاتی انتخابات کا شیڈول کب جاری کیا جائے گا؟ جبکہ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر کے اختیارات ایک ہی افسر کے پاس ہونے پر بھی عدالت نے اظہارِ برہمی کیا۔
 اسسٹنٹ اٹارنی جنرل  عثمان گھمن نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن سے متعلق قانون سازی کی گئی تھی جس کی وجہ سے الیکشن تاخیر کا شکار ہوا،ترمیم اور قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔
 جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ موجودہ پارلیمنٹ تو فی الحال 27 ویں آئینی ترمیم میں مصروف ہے،آئین کی تشریح میں لہٰذا اور کوئی ترمیم مشکل ہے، ہر غلط کام کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے کہاکہ پارلیمنٹ سپریم ہے وہ کسی بھی قانون کو تبدیل کر سکتی ہے،اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ جب غلط قانون بنتے ہیں تو بعد میں انہیں صفر پر واپس لانا ہوتا ہے،جس قانون میں غلطیاں بہت ہوتی ہیں تو اسے واپس لانے میں وقت لگتا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے بلدیاتی الیکشن سے متعلق حکومتی ترمیم کا دفاع نہیں کیا۔
ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں کی گئی بلدیاتی الیکشن سے متعلق ترامیم میں پیچیدگیاں موجود ہیں، اس پرجسٹس محسن اختر کیانی نے استفسارکیا تو پھر آپ بلدیاتی الیکشن کا شیڈول کب دے رہے ہیں؟ آپ بلدیاتی الیکشن کا شیڈول دے دیں، ہم پھر کوئی تاریخ دے دینگے۔

چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر کا عہدہ ایک افسر کے پاس ہونے پر عدالت نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کو سُوٹ کرتا ہے کہ ایک شخص دو عہدے رکھے باقی کسی کا خیال نہیں، بلدیاتی نمائندوں کا سارا اختیار سی ڈی اے کو دیا ہوا ہے،کسی نے لوکل گورنمنٹ الیکشن کو پروٹیکشن نہیں دی۔ 
عدالت نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔