ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روس کے صدر نے ایک بار پھر ایرانی یورینیم کو روس لےجانے کی پیشکش کردی

روس کے صدر نے ایک بار پھر ایرانی یورینیم کو روس لےجانے کی پیشکش کردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:   روس نے ایران کی  سویلین استعمال کے لئے درکار گریڈ سے بہت زیادہ افزودہ کی جا چکی یورینیم کے ذخیرہ کو سنبھالنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ روس کے  صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو  ایران سے اپنے ہاں منتقل کرنے اور محفوظ رکھنے کےلیے تیار ہے۔

 اتوار کے روز شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر پوتن نے ماسکو میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ روس امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کروانے کے لئے ایران کی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اپنے ہاں منتقل کرنے کے لئے تیار ہے۔ صدر پوتن نے کہا کہ میرا ملک واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطے میں رہے گا، مجھے امید ہے کہ یہ تنازعہ جلد ختم ہوجائے گا۔

 انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے پاس کم و بیش  972 پاؤنڈ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے جس میں سے کافی مقدار 60 فیصد تک افزودہ کی جا چکی یورینیم کی ہے۔ یورینیم کو 80 فیصد  سے 90 فیصد تک افزودہ کر لیا جائے تو اسے نیوکلئیر بم گریڈ مواد سمجھا جاتا ہے۔

 متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بم گریڈ کی سطح (Weapon-Grade): یورینیم کو بم گریڈ تصور کرنے کے لیے اس میں یورینیم-235   کی مقدار 90 فیصد یا اس سے زائد ہونی چاہیے।
اگر یورینیم 20 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ ہو جائے تو اسے "اعلیٰ افزودہ یورینیم" (Highly Enriched Uranium)  کہا جاتا ہے، اسے  جوہری ہتھیاروں  کی تیاری کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
بجلی گھر بمقابلہ نیوکلئیر بم

 جوہری بجلی گھروں (Nuclear Power Plants) کے لیے یورینیم صرف 3 سے 5 فیصد تک افزودہ کیا جاتا ہے۔  اس سے زیادہ افزودہ کی گئی یورینیم  نیوکلئیر بجلی گھروں میں ایندھرن کی حیثیت سے استعمال نہیں ہو سکتی۔

 امریکہ اور ایران کی پوتن کی پیشکش پر خاموشی

 صدر پوتن کی اس پیشکش پر  امریکہ اور ایران کی جانب سے   کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ روس کی جانب سے اس سے پہلے بھی ایران کی یورینیم کے ذخیرہ کو روس منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ 

 امریکی حکام نے ایرانی یورینیم کے روس منتقل کئے جانے کی تجویز پر تو کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن اس سے پہلے امریکی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کے یورینیم کے ذخائر کو کسی تیسرے ملک میں منتقل کر دیا جائے تو امریکہ کا بنیادی مطالبہ پورا ہو جائے گا۔ 

 یہ دراصل امریکہ کی ہی تجویز ہے کہ ایران سے یورینیم کے ذخیرہ کو کسی بھی تیسرے ملک کو منتقل کر دیا جائے تاکہ ایران میں اس بہت زیادہ افزودہ کی جا چکی یورینیم کو بم بنانے کے مقصد کے لئے استعمال کئے جانے کا امکان ختم ہو جائے۔ 

 ولادیمیرپیوٹن نے اپنی نیوز کانفرنس میں روس اور یوکرین تنازعہ کے  بھی جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کی۔