صحافتی آزادی کی صورتحال بدترین،  پاکستان کی عالمی رینکنگ کیا?

demo for press freedom
کیپشن: demo for press freedom
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

  ویب ڈیسک : پاکستان صحافتی آزادیوں کی فہرست میں کھسک کر مزید نیچے چلا گیا، جس پر صحافتی تنظیموں اور صحافیوں  نے اظہار تشویش کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق'' رپورٹرز ودآؤٹ باررڈرز ''  کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق پاکستان 2022 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔ عالمی یوم آزادی صحافت کی یاد میں آر ایس ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ180 ممالک میں پاکستان پاکستان 12 درجے نیچے گر کر 157 نمبر پر آ گیا ہے۔ 2021 میں، پاکستان پیرس میں قائم میڈیا واچ ڈاگ کی فہرست میں 145ویں نمبر پر تھا۔

2022 کے انڈیکس کے مطابق،  بھارت  کی پریس کی آزادی کی درجہ بندی بھی 2021  کے مقابلے میں 142 سے گر کر اس سال  150  ویں نمبر پر آ گئی۔ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک بھی درجہ بندی میں گر گئے، سری لنکا 146، بنگلہ دیش 162 اور میانمار 176 ویں نمبر پر ہے۔

آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 180 ممالک اور خطوں میں صحافت کی حالت کا جائزہ لیتا ہے اور خبروں اور معلومات  کی فراہمی میں دباؤ اور انتشار کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرتا ہے - ایک عالمی اور غیر منظم آن لائن معلومات کی  کی ترسیل جو جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

دریں اثنا، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے ملک میں آزادی صحافت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے سی پی این ای کے صدر کاظم خان نے کہا کہ ادارتی پالیسی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم کوئی بھی اپنا فیصلہ کسی ادارے پر مسلط نہیں کر سکتا۔کراچی پریس کلب کے صدر فضل جمیلی نے بھی کہا کہ آزادی اظہار کا تحفظ ذاتی مفادات کو ہر چیز سے بالاتر رکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔