ویب ڈیسک: پاکستان میں ایندھن سے بھرے متعدد جہازوں کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں پیٹرول کے فوری بحران کا خدشہ ختم ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پورٹ قاسم انتظامیہ اور ترجمان کے مطابق اب پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال قابو میں ہے اور ملک بھر میں پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
فی الحال پورٹ قاسم پر ایندھن بردار جہازوں کی آمد کا رش ہے۔ ایم ٹی ناوے ایٹروپوس 50 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر 9 مارچ کو پہنچ چکا ہے، جبکہ ایم ٹی اسپروس ٹو آج رات ساڑھے آٹھ بجے تقریباً 55 ہزار ٹن پیٹرول لے کر کراچی آئے گا۔
اس کے علاوہ، ایم ٹی سی کلپر تقریباً 34 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے ساتھ کل دوپہر 12 بجے بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گا۔
گیسولین بردار جہاز ‘ ایم ٹی ٹورم دامینی’ پہلے ہی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو چکا ہے اور فجیرہ سے ایک اور جہاز بھی پہنچ چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق عمان سے ایک جہاز روانہ ہو چکا ہے جبکہ مزید دو جہازوں کی آمد کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کے لیے ایندھن کی سپلائی لائن بحال ہے اور مزید جہازوں کی آمد بھی متوقع ہے۔
ایندھن سے بھرے یہ جہاز مارکیٹ میں پھیلی ہوئی کمی اور خوف کے اثرات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ اسٹاک ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے اور اس وقت کوئی قلت یا ذخیرہ اندوزی کا امکان نہیں رہا۔
واضح رہے کہ ہآبنائے ہرمز کی بحالی اور سمندری نقل و حمل کے دوبارہ معمول پر آنے کے بعد ہی عالمی منڈی میں صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے لیے فوری جنگ بندی ضروری ہے اور حالات معمول پر آنے میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ ماہ لگ سکتے ہیں۔