ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پیٹرول کی قیمت میں کمی یا مزید اضافہ؟ ماہر معاشیات کا اہم بیان

پیٹرول کی قیمت میں کمی یا مزید اضافہ؟ ماہر معاشیات کا اہم بیان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑنے لگے ہیں۔ پاکستان بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے جہاں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان میں حالیہ پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد عام شہریوں خصوصاً موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں اور متوسط طبقے پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتایا کہ حکومت نے ایک لیٹر پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی کو 84 روپے سے بڑھا کر 105 روپے 37 پیسے کر دیا ہے۔

 ان کے مطابق یہ وہ رقم ہے جو ہر صارف کو لازمی ادا کرنا پڑتی ہے، چاہے وہ موٹرسائیکل سوار ہو یا کسی اور گاڑی کا استعمال کرتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس میں امپورٹ ڈیوٹیز اور دیگر ٹیکسز کو شامل کیا جائے تو فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی بوجھ تقریباً 125 سے 130 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق اس وقت عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 105 ڈالر فی بیرل ہے، جبکہ صبح کے وقت یہ قیمت 119 ڈالر تک جا پہنچی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمت میں عارضی کمی اس وقت دیکھنے میں آئی جب خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے اپنے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے مارکیٹ میں کچھ استحکام پیدا ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر برینٹ آئل کی قیمت 105 ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 85 ڈالر فی بیرل تک آ جاتی ہے تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 25 سے 30 روپے تک کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور سمندری نقل و حمل کے دوبارہ معمول پر آنے کے بعد ہی عالمی منڈی میں صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے لیے فوری جنگ بندی ضروری ہے اور حالات معمول پر آنے میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ ماہ لگ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فوری بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے، اسی لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ ماہر معاشیات نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کو سادہ بنائیں اور توانائی کے استعمال میں ممکنہ حد تک کمی کریں تاکہ معاشی دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

دوسری جانب وزیراعظم نے بھی آج قوم سے خطاب میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ عالمی حالات کے پیش نظر آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔