ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا زمین عطیہ کرنیوالوں کے حق میں بڑا فیصلہ،وقف اراضی کے استعمال میں تبدیلی سے متعلق اصول واضح کر دئیے۔حکومت مخصوص پروجیکٹ مکمل نہ کرے تو اراضی اصل مالک کو واپس کرنا ہوگی۔محکمہ تعلیم کی نااہلی سے شہری کو ملکیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد اقبال کی درخواست منظور کرتے ہوئے وقف اراضی کے استعمال سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسے قانونی ماہرین ایک اہم عدالتی نظیر قرار دے رہے ہیں۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ عوامی فلاح اور نیک نیتی کے تحت زمین عطیہ کیے جانے کا مقصد اگر پورا نہ ہو سکے تو متعلقہ سرکاری ادارہ اراضی پر قبضہ برقرار رکھنے کا حق نہیں رکھتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ محکمہ تعلیم یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کی نااہلی کی سزا شہری کو اس کی ملکیت سے محروم رکھ کر نہیں دی جا سکتی۔عدالت کے روبرو مقدمے کے مطابق گوجرانوالہ کے گاؤں گاگیوالی میں ایک شہری نے محکمہ تعلیم کو اسکول کی تعمیر کے لیے چار کنال اراضی وقف کی تھی ۔ تاہم زمین وقف کیے جانے کے بعد سولہ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود محکمہ تعلیم جگہ پر کوئی تعلیمی ادارہ تعمیر نہ کر سکا اور نہ ہی منصوبے پر عملی پیش رفت کی گئی۔