طاہر جمیل: محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ لاہور نے جامع انتظامی اور سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں محرم انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، پولیس، لیسکو، واسا، ریسکیو 1122، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ محرم الحرام کے دوران لاہور میں مجموعی طور پر 5 ہزار 235 مجالس اور 1553 جلوس نکالے جائیں گے، جبکہ عشرہ محرم میں 4 ہزار 502 مجالس اور 645 جلوس منعقد ہوں گے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق جلوسوں کے روٹس کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جائے گی۔ ڈی سی آفس میں قائم کنٹرول روم سے 303 حساس مقامات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جائے گی، جبکہ جلوسوں کے راستوں پر 1512 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بیریئرز، واک تھرو گیٹس اور قناعتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ایل ڈبلیو ایم سی کے 1500 ورکرز صفائی کے فرائض انجام دیں گے جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 55 ایمبولینسز اور 300 موٹر بائیک ایمبولینسز الرٹ رہیں گی۔
محرم کے دوران عزاداروں کی طبی سہولت کے لیے 9 اور 10 محرم کو سنٹرل ماڈل ہائی سکول میں عارضی ہسپتال قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 77 کلینک آن ویلز اور 8 سبیل پوائنٹس بھی قائم کیے جائیں گے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں سبیلوں پر فراہم کی جانے والی اشیائے خورونوش کا معائنہ کریں گی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے ہدایت کی کہ عاشورہ کے جلوسوں کے روٹس پر پیچ ورک اور اسٹریٹ لائٹس کا کام فوری مکمل کیا جائے اور حساس مقامات کی نگرانی کے لیے کنٹرول روم کو چوبیس گھنٹے فعال رکھا جائے۔