(ویب ڈیسک ) عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انڈونیشیا میں شہری مہنگے روایتی ڈیزل کے بجائے سبسڈی والے بائیو ڈیزل کی جانب منتقل ہونے لگے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا نے پام آئل سے تیار کردہ بائیو ڈیزل پروگرام B50 کو متعارف کر دیا ہے، جس میں 50 فیصد پام آئل پر مبنی ڈیزل اور 50 فیصد روایتی ڈیزل شامل ہے۔
حکومت نے توانائی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے اس منصوبے کو آگے بڑھایا، جبکہ عالمی تیل کی بلند قیمتوں نے بھی شہریوں کو متبادل ایندھن کی طرف آنے پر مجبور کیا۔
رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں روایتی ڈیزل کی قیمت رواں سال نمایاں طور پر بڑھی، جبکہ سبسڈی والے بائیو ڈیزل کی قیمت اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
کئی گاڑی مالکان اپنی گاڑیوں کو بائیو ڈیزل کے استعمال کے قابل بنانے کے لیے ورکشاپس سے تبدیلیاں کروا رہے ہیں، جن میں فیول سسٹم کی حفاظت، فلٹرز اور دیگر تکنیکی اقدامات شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق بائیو ڈیزل پروگرام سے تیل درآمدات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم گاڑیوں کی دیکھ بھال اور پام آئل کی قیمتیں اس منصوبے کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے B50 منصوبے کو ملکی کامیابی قرار دیتے ہوئے مستقبل میں اسے B60 تک بڑھانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔