آزاد کشمیر کی فضائیں،سرسبز وادیاں اور برف پوش پہاڑ صرف فطرت کے حسن کی علامت نہیں، بلکہ ان بستیوں کے بیچ ایک ایسا رشتہ بھی زندہ ہے جو خدمت، قربانی اور تحفظ سے بندھا ہوا ہے۔
یہ رشتہ ہے کشمیری عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان۔ یہ رشتہ وقت کی گرد کو مٹا کر ہر آزمائش میں نکھرتا چلا گیا ہے، اور آج بھی پوری آب و تاب سے زندہ ہے،اسی مضبوط بندھن کی تازہ مثال حالیہ دنوں اس وقت دیکھی گئی، جب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مظفرآباد کا دورہ کیا۔
جامعہ کشمیر چھترکلاس میں طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور افواجِ پاکستان اس رشتے کو خون، محبت اور فرض کے ساتھ نبھاتی رہی ہے، بعدازاں ایک مقامی ہوٹل میں وکلاء، اساتذہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے تفصیلی ملاقات میں انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ جڑے جذباتی اور تاریخی تعلق کو دوٹوک انداز میں بیان کیا، جسے شہریوں نے بے حد سراہا۔
افواجِ پاکستان کا یہ کردار کوئی نئی بات نہیں،زلزلہ ہو یا سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ ہو یا برفباری، دشمن کی گولی ہو یا اندرونی بحران، ہر موقع پر یہ فوج قوم کے سینے سے لگ کر کھڑی ہوئی ہے، 8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ آج بھی اس قربانی کا گواہ ہے جب ملبے تلے دبی سانسوں کو اُسی فوج کے جوانوں نے نئی زندگی دی، برفانی طوفانوں میں اُترتے ہیلی کاپٹرز، کندھوں پر زخمی بچوں کو اٹھا کر دوڑتے سپاہی، خوراک، ادویات اور کمبل لے کر اندھیری بستیوں میں پہنچنے والے وردی پوش، یہ سب محض مناظر نہیں، بلکہ افواج پاکستان کا چہرہ ہیں۔
یہ فوج صرف بندوق نہیں اٹھاتی، یہ دلوں کو سہارا دیتی ہے،نیلم سے لیپہ، کھوئی رٹہ سے تتہ پانی تک، نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی گئی بلکہ اسکولوں میں فرنیچر، بستیوں میں سولر پینل، فری میڈیکل کیمپس اور یتیموں کی کفالت جیسے اقدامات نے ثابت کیا کہ یہ فوج ماں کی ممتا، بھائی کا بازو اور باپ کی پناہ جیسی ہے، اور پھر جب دشمن نے حد سے تجاوز کیا، تو یہ فوج صرف خدمت کی نہیں، دفاع کی عظیم علامت بن کر ابھری۔
حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان کی جرأت، مہارت اور غیر متزلزل عزم کا جو مظاہرہ ہوا، وہ آپریشن "بنیان مرصوص" کی صورت تاریخ کا سنہری باب بن چکا ہے۔ دشمن کی جارحیت کو جس حکمت، صبر اور دلیری سے روکا گیا، وہ نہ صرف عسکری فتح تھی بلکہ قومی وقار کی بحالی بھی،اس آپریشن کی قیادت سپہ سالارِ پاکستان، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے جس بصیرت، شجاعت اور تدبر سے کی، اس نے پوری قوم کو نیا حوصلہ دیا۔ انہوں نے صرف محاذ پر حکمت عملی نہیں بنائی، بلکہ ہر سپاہی کے دل میں ایمان، جذبہ اور فخر کی چنگاری بھی روشن کی۔ ان کی قیادت میں دشمن کی توپیں خاموش ہوئیں، اور کشمیر کی وادیاں ایک بار پھر امن کی سانس لینے لگیں،یہ معرکہ محض عسکری میدان میں کامیابی نہ تھا۔
یہ پیغام تھا کہ جب قوم متحد ہو، جب عوام اپنی فوج پر اعتماد کریں، اور جب سپہ سالار خدا پر توکل، اصول پر استقامت اور قوم سے محبت کو مشعل راہ بنائے، تو دشمن کا ہر وار خاک میں مل جاتا ہے۔ جنرل سید عاصم منیر نے افواج پاکستان کے اس تاریخی کردار کو ایک نئی جہت دی، وہ صرف جنگی سپہ سالار نہیں، بلکہ قوم کے معمار اور سچے رہنما کے طور پر ابھرے،یہ بات اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ افواج پاکستان کا ہر جوان صرف سرحدوں کا محافظ نہیں، بلکہ قوم کے زخموں کا مرہم، غریب کا سہارا، اور کشمیری ماں کا بیٹا ہے،وہ فوجی جو برف میں ٹھٹھرتے بچے کو اپنی چادر دیتا ہے، وہی جنگ میں دشمن کے ٹینک کا مقابلہ کرتا ہے، وہی زلزلے میں کھنڈرات سے معصوموں کو نکالتا ہے اور وہی میدانِ جنگ میں اپنے سینے پر گولی کھاتا ہے۔ جب دشمن پانی روکنے کی بات کرتا ہے،جب وہ ہمارے دریاؤں پر سازشیں کرتا ہے، جب وہ بارڈر پر گولیاں برساتا ہے.
تب یہی فوج سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے اور تب کشمیری ماں، اپنے شہید بیٹے کی قبر پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہے،یہ صرف میرا بیٹا نہیں تھا، یہ پوری وادی کا محافظ تھا" یہ رشتہ خونی نہیں، روحانی ہے،یہ تعلق کاغذی نہیں، دل کا ہے، یہ اعتماد وقتی نہیں، نسل در نسل ہے، ہمیں آج، اسی لمحے، ایک نئے عہد کی ضرورت ہے،ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ رہیں گے۔
افواج پاکستان کے ہر سپاہی کو سلام، ہر شہید کو خراج، اور ہر سپہ سالار کو خراجِ تحسین، اور جب دشمن گرجے گا، تو ہم کہہ سکیں کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں،ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں کیونکہ جیسا بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانیؒ نے آخری لمحے تک کہا، "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے".