ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تنہائی کی دلدل،ذمہ دار کون ؟

اسعد نقوی 

تنہائی کی دلدل،ذمہ دار کون ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سوشل میڈیا پر اداکارہ کی موت کا سوگ ہے، موت کی بے ثباتی تو سب کو معلوم ہے،قید تنہائی اور تنہائی کا دکھ کون جانتا ہے،،سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اتنے روز تک کسی کو موت کا علم کیوں نہ ہوا۔
یاد رکھیے تنہائی کی موت کے ذمہ دار آپ سب ہیں، کیونکہ ہم سب کہیں نہ کہیں اپنی مصروف زندگی میں اپنے ہی پیاروں کو نظر انداز کردیتے ہیں ، کبھی آپ کے اپنے آپ کے رویوں سے تنگ آکر خود کو اپنے ہی خول میں بند کرلیتے ہیں ، طنز کے نشتر چلانے والے نہیں جانتے کب کونسا تیر پیوست ہو اور زندہ دل انسان ہار جائے۔
ڈپریشن کہیں اور سے نہیں ملتا بلکہ یہ وہ بیماری ہے جو اپنوں سے ملتی ہے ،بدلتے رویے ،نظر انداز کرنا اور زندگی کی دوڑ میں مگن ہوکر اپنے کو قید  تنہائی میں دھکیل دینا ہی موت کی داستان سنانے لگتا ہے۔یہ وہی زہر ہے جو دھیرے دھیرے جسم میں سرایت کرتا چلا جاتا ہے۔ایسے ہی رویوں کی بدولت کوئی خودکشی کرلیتا ہے تو کوئی تنہائی کی قید کاٹتے کاٹتے موت کو گلے لگا لیتا ہے۔

آپ دیکھ لیجیے کہ کہیں آپ کی بدولت کوئی موت کے قریب تو نہیں ، کہیں کوئی منت سماجت کرتا رہا ہو اور آپ اپنی آنامیں نظر انداز کررہے ہوں، آپ اس کی کیفیت کو سمجھنے کی بجائے اسے کتھارسس کا موقع بھی نہ دیں اور اس کے جذبات پر طنز کے تیر چلا کر اسے مزید اپنی ہی ذات کے خول میں قید کررہے ہوں، بشر زندگی توجہ مانگتی ہے ،محبت ،انسانیت ، اورخوفِ خدا یہی کہ آپ اپنے پیاروں کا خیال رکھیں۔ 

دوسروں پر انگلی اٹھانے کی بجائے اسی  سوشل میڈیا یا اسی فون کی طرف چلتے ہیں جس کی بدولت آپ کا دعویٰ  ہے کہ آپ سب سے رابطے میں رہتے ہیں اور آپ کے  جاننے والے سب خیریت سے ہیں ، اپنے  واٹس ایپ یا اپنی چیٹ دیکھیں ،اس کو سکرول کرتے چلے جائیں ، یقین مانیے کہ کئی  ایسے نام ہوں گے جن  سے آپ نے برسوں ، مہینوں یا کئی ہفتوں تک  ایک میسج کرکے بھی رابطہ نہیں کیا ۔ کئی ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کبھی آپ کی زندگی میں  صبح شام  آپ کے ساتھ تھے ۔ آپ ان سے اپنے دل کی ہر بات کرتے تھے  مگر اب  وہ  میسجز کی  بھرمار میں کہیں کھو چکے ہیں ، آپ اپنی مصروفیات میں ان کو یکسر بھلا چکے ہیں یہاں تک کہ آپ نے  ان کی خیریت ہی دریافت نہیں کی ۔کئی نام ایسے بھی سامنے آئیں گے جن سے آپ بس عید تہوار پر ہی رابطہ کرتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ایسی بے ثباتی زندگی میں کسی کی تنہائی زدہ  کیفیات کو آپ کیسے سمجھ پائیں گے ۔ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ کا کوئی پیارا ڈپریشن کا شکار ہوکر تنہائی پسند ہوچکا ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی نے آپ کو کہا ہو کہ مجھے تنہا چھوڑ دو ۔ اور آپ نے اس کو سپیس دے دی ہوسکتا ہے کہ اسے اس وقت آپ  کی سب سے زیادہ ضرورت ہو ۔

کئی بار  آپ کے پیارے آپ  کو اپنے منھ سے بھی کہہ دیتے ہیں کہ مجھے آپ کی ضرورت ہے  لیکن آپ نظر انداز کرتے ہوئے اپنی  انا کے خول میں صرف یہ سوچ کر اسے تنہا چھوڑ جاتے ہو کہ اسے کوئی مطلب ہوگا ۔ آپ یہ نہیں جانتے  کہ ہوسکتا ہے کہ یہی وہ لمحہ ہو جب وہ زندگی یا موت کے درمیان  فیصلہ کررہا ہو اور جب اسے تنہائی  کی دلدل میں دھکیل دیا جائے ، ہجوم میں بھی وہ تنہا ہو اور کسی سے اپنی بات تک نہ کہہ سکتا ہو تو اس کی موت کے بعد پھر صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے 

خودکشی ہو یا تنہائی میں موت ؛ اس کے ذمہ دار اکثر اپنے ہوتے ہیں کیونکہ وہ شخص اپنوں کی بے حسی ،سخت لہجے ، بدلتے رویے اور طنز کے نشتر  اس کی شخصیت کو مسخ کردیں ۔جدید دور کے تقاضے بدل رہے ہیں پرائیویسی کے نام پر اپنوں سے دوری اور تنہائی کی قید کاٹی جا رہی ہے ۔ کئی بار  پرائیویسی کے نام پر اپنوں سے ایسی دوری اختیار کرلی جاتی ہے کہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں کوئی پاس نہیں ہوتا ۔صحت کے مسائل کے ساتھ ساتھ دماغی طور پر بھی انسان  ڈسٹرب ہوچکا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس اپنے کتھارسس کے لیے بھی کوئی شخص نہیں ہوتا جس سے وہ دل کی بات کرسکے ۔سوشل میڈیا کے دور میں انسان سوشل نہیں رہا بلکہ وہ  تنہائی پسند اور ڈپریشن کا شکار ہوتا جارہا ہے ۔ ایسے میں خود کو سوشل کرنا ہوگا ، پرانی روایات کو زندہ کرنا ہوگا ، اپنوں کا خیال رکھنا پڑے گا اور  دوسروں  کی خیریت دریافت کرنی ہوگی ۔ زندگی کا اصل حسن ہی یہی ہے کہ دوسروں کے کام آیا جائے ان  کے ساتھ دکھ سکھ بانٹے جائیں ۔پرائیویسی کے نام پر تنہائی کی موت  کی جانب مت دھکیلیں ۔اپنوں کو توجہ دیں جس کے وہ حق دار ہیں۔