جنگ میں ہار جیت کے علاوہ تیسرا آپشن ادھوری لڑائی یعنی مشن میں ناکامی کا ہوتا ہے ، اگر مگر کرکے شکست کو چھپایا جاسکتا ہے نہ ہی خفت مٹائی جاسکتی ہے ،یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جو فریق بھی جنگ پر آمادہ ہو وہ جوش کے ساتھ ہوش کا بھی مظاہرہ کرتا ہے ۔ خالی بیان بازی وقت کا زیاں ہوتی ہے ، حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی نسل کشی کی کارروائی پر اگر کوئی یہ کہے کہ مجاہدین جیت گئے تو خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ، امریکہ کھربوں ڈالر اور دو دہائیاں لگا کر افغانستان میں مطلوبہ مقاصد حاصل نہ کرسکا اور جن کی کمر توڑنے کے لیے آیا تھا وہی طالبان پھر برسر اقتدار آگئے تو یہ حقیقی اس کی فوجی شکست نہیں بلکہ ناکامی ہے ۔حالیہ پاک بھارت جنگ کا نتیجہ پاکستان کی فتح اور بھارت کی شکست کی صورت میں نکلا ۔
بھارتی حملے کے جواب میں پاک فوج کی بھرپور کارروائی نے دشمن کے ہوش اڑا دئیے، وہ جنگ بندی پر مجبور ہوگیا ۔ مودی اس قدر حواس باختہ ہوا کہ اس کے منہ سے نکل گیا ‘‘ الٹا پاکستان نے ہم پر ہی حملہ کردیا ، اس ردعمل سے باآسانی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی سورما حماقت کی تمام حدیں پار کرکے یہ سوچ بیٹھے تھے کہ ایک ایٹمی ملک کے شہری علاقوں پر حملے کرنے کے بعد جواب نہیں آئے گا۔ یہ جنگ بھارت کے ساتھ اسرائیل اور اسے اسلحہ بیچنے والے ممالک کے لیے بھی سخت شرمندگی کا سبب بن گئی۔ اب یہ کہنا کہ بھارت کا مقابلہ ایک نہیں تین ممالک کے ساتھ تھا اپنے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔ مودی سے لے کر وزرا اور جرنیلوں تک سب بونگیاں مار رہے ہیں ۔
انڈیا کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑائی کے دوران پاکستان کے علاوہ چین اور ترکی کا بھی سامنا تھا اور چین پاکستان کو انڈیا کی فوجی تنصیبات کے حوالے سے لائیو معلومات فراہم کر رہا تھا۔ہر قسم کی مدد فراہم کر رہا تھا ترکی نے بھی پاکستان کو مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بیراکتر ڈرون وہ پہلے ہی دے رہے تھے لیکن اس کے دوسرے ڈرونز بھی جنگ کے دوران نظر آئے اور ان کے ساتھ ماہر افراد بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا چین اس لڑائی کے ذریعے اپنے ہتھیاروں کو دوسرے ملکوں کے ہتھیاروں کے سسٹمز کے خلاف ٹیسٹ کر پا رہا تھا، یعنی یہ اس کے لیے ایک لائیو لیب کی طرح تھا، بھارتی جنرل کی جانب سے اس قسم کی گفتگو جہاں ایک طرف کھلا اعتراف شکست ہے، وہیں بچوں کی طرح رونا دھونا بھی ثابت ہورہا ہے جیسے کوئی سکول میں کسی کلاس فیلو پٹنے کے بعد اپنے گھر آکر کہے میں کیا کرتا وہ بڑے لڑکے لے آیا تھا ‘‘ انڈیا پوری دنیا کے سامنے ہونے والی ٹھکائی کے بعد اپنے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے جو بہانے تراش رہا ہے وہ مضحکہ خیز ہیں ۔ ان کا نوٹس لیتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دنیا کو بھارت کی نو سربازی سے بروقت آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی میں بھارت کی جانب سے بیرونی حمایت جیسے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔
بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا،خالصتاً دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ملکوں کو شامل کرنا بھارت کی ناقص سیاسی کوشش ہے،جنگیں میڈیا کی بیان بازی، درآمد شدہ فینسی جنگی ساز و سامان یا سیاسی نعرے بازی سے نہیں جیتی جاتیں،جنگیں یقین محکم،پیشہ ورانہ قابلیت ، آپریشنل شفافیت، اداروں کی مضبوطی اور قومی عزم وحوصلے کے ذریعے جیتی جاتی ہیں،پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے منہ توڑ، شدید، گہرا، تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل نے کہاکہ بیرونی حمایت جیسے الزامات لگانا بھارت کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کرنے میں روایتی ہچکچا ہٹ کی عکاسی ہے ، فیلڈ مارشل کے اس عزم سے بھارتی حکومت اور فوج کی مزید سبکی ہوئی ، طے شدہ کلیہ ہے کہ جنگ کے نتائج کا انحصار طاقت پر ہوتا ہے ، اس لڑائی میں طاقت کو توازن پاکستان کے حق میں تھا، پاکستان نے اپنی مکمل برتری ثابت کردی ، جو بھارت کو اگلے کئی سال تک کسی مہم جوئی سے روکے رکھے گی ، یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان ، چین کا فولادی دوست ہے اور دونوں کے مشترکہ دشمن انڈیا کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے ، اسی لیے امریکہ اور اسرائیل بھی سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔
مستقبل قریب میں پراکسی وار تو ہوگی لیکن باقاعدہ جنگ یا بڑی جھڑپ سے ہر کوئی گریز کرے گا ۔ دوسری طرف ایران ، اسرائیل جنگ کے حوالے سے نقصانات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ، اس کے بعد وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ دوبارہ حملہ نہیں ہوگا ، ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ جنگ ایران نے جیتی یا اس کا پلہ بھاری رہا ، لیکن عالمی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی خبریں بالکل مختلف تصویر دکھا رہی ہیں ، ایران کا بھاری نقصان ، ٹاپ عسکری قیادت، ایٹمی سائنسدانوں کی ہلاکت اور فوجی تنصیبات کی تباہی کی شکل میں ہوا ، اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں ، ٹرمپ سے دو ملاقاتوں کے باوجود کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا ، ویسے آبھی جائے تو اس پر کتنا اعتبار کیا جاسکتا ہے ؟ ٹرمپ نے پہلے بھی پندرہ روز تک انتظار کرنے کا کہہ کر حملہ کردیا تھا ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنی تازہ تحریرمیں انکشاف کیا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ نو ہفتوں میں پانچ ملاقاتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی پیش رفت کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن چھٹی اہم ملاقات سے صرف 48 گھنٹے قبل اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس میں نیوکلیئر تنصیبات، ہسپتال، گھر اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اسے سفارتی عمل سے غداری اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا۔اب بھی ایسی ہی اطلاعات ہیں کہ امریکہ کے ایما پر اسرائیل کسی بھی وقت لڑائی کا دوسرا راؤنڈ شروع کرسکتا ہے ، اب کچھ ذکر اپنے سول حکومت کا جو تیزی سے غیر اہم اور غیر متعلقہ ہوتی جارہی ہے ۔
حالت یہ ہے کہ ایک اینکر نے الزام لگایا کہ چینی کو پہلے برآمد اور پھر درآمد کرکے اربوں کی لوٹ مار کرنے کی کئی سال سے جاری واردات اس مرتبہ وزیر اعظم شہباز شریف کے خاندان نے کرائی ، اس اینکر نے دعویٰ کہا اس معاملہ فیملی میں جو گفتگو ہوئی اسے اس کا پورا علم ہے ،حکمران خاندان پر یہ سنگین الزام لگائے ہوئے کئی روز گزر چکے مگر حکومت نہ تو جھٹلانے کی ہمت کی نہ ہی یہ پوچھا کہ ثبوت کہاں ہیں ؟ اسی طرح کے ایک اور اینکر جسے ایجنسیوں نے میڈیا میں پیرا شوٹر بنا کر داخل کرایا یہ افواہ چھوڑی کہ نواز شریف ، عمران خان سے ملنے بلکہ ان کو منانے کے لیے اڈیالہ جیل جائیں گے ۔اس کی تردید کرنے کے لیے رانا ثنا اللہ ، سینٹر عرفان صدیقی اور اسحق ڈار کو میڈیا کے سامنے آکر ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑ رہا ہے۔ بے بسی ملاحظہ فرمائیں کہ کسی نے اس اینکر سے نہیں کہا وہ اپنی جھوٹی خبر کی خود تردید کرے یا شواہد کے ساتھ ثابت کرے ۔ہائبرڈ پلس سسٹم کی بدولت لاغر پن کی جس سطح پر یہ حکومت پہنچ چکی ہے اتنا نیچے تو جنرل مشرف کے مارشل لا ء میں ڈمی وزرائے اعظم میر ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز کی حکومتیں بھی نہیں آئی تھیں۔