ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے کمشنرز کو پنجاب کے سات تعلیمی بورڈز کا عبوری چئیرمین بنانے کیخلاف درخواست پر حکومت پنجاب اور دیگر کو فریقین کو جواب جمع کروانے کے لئے مہلت دے دی.
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے شہری ثاقب علوی کی درخواست پر سماعت کی جس میں کمشنرز کو پنجاب کے سات تعلیمی بورڈز کا عبوری چئیرمنیوں بنانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے. عدالت کے روبرو کسی فریق نے جواب داخل نہیں کرایا ، ہنجاب حکومت کے وکیل نے جواب جمع کروانے کے لئے مہلت کی استدعا کی ، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ اس نکتہ پر معاونت کریں کہ تعلیمی بورڈز کا انتظامی کنٹرول کس قانون کے تحت کمشنرز کو دیا گیا. درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کے تحت چئیرمین کی عدم موجودگی پر کمشنر کو تین ماہ کے لئے چئیرمین تعینات کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے برعکس پنجاب کے سات تعلیمی بورڈز میں ماورائے قانون کمشنر کو دو برس سے چئیرمین تعینات کیا گیا ہے. وکیل نے استدعا کی کہ کمشنرز سے تعلیمی بورڈ کے چئیرمین کا عہدہ واپس لینے کے احکامات واپس لینے اور تعلیمی بورڈز میں مستقل چئیرمین فوری تعینات کرنے کے حکم دیا جائے.