سٹی42: صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کی، جس میں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے عظمیٰ بخاری کی جانب سے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست پر وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عظمیٰ بخاری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وہ صوبائی وزیر ہیں اور انہیں سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، اس لیے عدالت ویڈیو لنک کے ذریعے بیان قلمبند کرنے کا حکم دے۔
علی بخاری ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبائی وزیر کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے، جبکہ ملزمہ کے وکیل نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ بخاری کی درخواست خارج کی جائے۔
سماعت کے موقع پر ملزمہ فلک جاوید کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا، جس کے بعد عدالت نے حاضری مکمل ہونے پر ملزمہ کو واپس جیل بھجوا دیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے مقدمے کا چالان پہلے ہی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔کیس کی مزید سماعت 17 فروری کو ہوگی، جس میں ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرنے سے متعلق محفوظ فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔