ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف؛  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی انڈسٹری اور  کئی اتحادیوں پر نیا حملہ

Donald Trump, City42, Steel and Aluminum industry, city42
کیپشن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ 9 فروری 2025 کو ایئر فورس ون میں سکریٹری داخلہ ڈوگ برگم اور ان کی اہلیہ کیتھرین برگم کے ہمراہ صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہین گزرتا جب ڈونلڈ ٹرمپ  دنیا کے نظام کو اتھل پتھل کر دینے کی کوئی کوشش نہ کرتے ہوں۔ اب انہوں نے امریکہ کی سٹیل اور ایلومینیم امپورٹس پر 25 فیصد  ٹیرف لگانے کا نعرہ بلند کیا ہے۔ اس سے امریکہ کی انڈسٹری کی کاسٹ آف پروڈکشن تو فوراً ہی بڑھ جائے گی، باقی دنیا پر جو اثر ہو گا سو ہو گا۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی معیشت کو ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے اعلان کیاہے کہ وہ اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ نافذ ہوا تو یہ امریکہ کے بعض اعلی تجارتی شراکت داروں کو متاثر کرے گا اور "تجارتی جنگ" کا امکان مزید بڑھ جائے گا۔

امریکہ اور دنیا بھر کے سنجیدہ صحافتی حلقوں میں عام تاثر یہ ہے کہ ٹرمپ جوابی ٹیرف کے ساتھ تجارتی جنگ کو بڑھانا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے کینیڈا، میکسیکو اور چین کے متعلق  تجارتی اقدامات کے بعد تازہ ترین محصولات کے متعلق کا اعلان کیا ہے جس کے دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور امریکی سامان پر ڈیوٹی لگانے والے ممالک پر باہمی محصولات عائد کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کو کہا  تھا کہ وہ اگلے دن (آج پیر کے روز) سٹیل اور ایلومینیم پر محصولات کا باضابطہ اعلان کریں گے اور ہفتے کے آخر میں جوابی محصولات کا اعلان کریں گے۔


ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا ملک جوابی محصولات کے تابع ہوگا لیکن کہا کہ ان کا یہ اعلان تمام ممالک کو متاثر نہیں کرے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سرکاری طیارے  ایئر فورس ون پر پرواز کے دوران  اپنے ساتھ خبروں کے حصول کے لئے سفر کرنے والے  نامہ نگاروں کو بتایا، ’’بہت سادہ، یہ ہے کہ اگر وہ ہم سے وصول کرتے ہیں تو ہم ان سے وصول کریں گے۔‘‘

صدر ٹرمپ نے کہا ، "اگر وہ ہم سے 130 فیصد چارج کر رہے ہیں اور ہم ان سے کچھ نہیں لے رہے ہیں تو ، یہ اس طرح نہیں رہے گا۔"

امریکی حکومت اور امریکن آئرن اینڈ اسٹیل انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا امریکہ کو سٹیل کا سب سے بڑا سپلائی کرنے والا ملک ہے، اس کے بعد برازیل، میکسیکو، جنوبی کوریا اور ویتنام ہیں۔

چین، میکسیکو اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر اہم سپلائرز کے ساتھ کینیڈا امریکہ کو ایلومینیم کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

2023 میں، وہ ممالک جن سے امریکہ نے زیادہ تر سٹیل درآمد کیا تھا:
کینیڈا: $8.36 بلین (6.39 ملین میٹرک ٹن)
برازیل: $4.56 بلین (3.49 ملین میٹرک ٹن)
میکسیکو: $3.73 بلین (2.85 ملین میٹرک ٹن)
جنوبی کوریا: $2 بلین (1.53 ملین میٹرک ٹن)

سٹی42 کا ٹیک

معیشت کی کتابوں کی مدد سے اور دنیا مین رائج معیشتی نظام کے عمومی مطالعہ سے یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ مینوفیکچرنگ کے لئے خام مال مہیا کرنے والے اس خام مال کو اپنی فیکٹریوں میں استعمال کر کے مینوفیکچرنگ کرنے اور ویلیو ایڈڈ   پروڈکٹس پیدا کرنے والے ممالک کی ایک طرح سے مدد کرتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے انڈسٹریل ممالک اپنی انڈسٹریز کو مطلوبہ پیداوار کے ٹارگٹس حاصل کرنے مین معاونت فراہم کرنے کے لئے خام مال کی بروقت، مسلسل اور ارزاں ترین نرخوں پر فراہمی یقنی بنانے مین معاونت فراہم کرتے ہیں۔  ایسا ہی اب تک امریکہ کی حکومت بھی کرتی رہی ہے۔ سٹیل اور ایلومینیم  کی امپورٹ پر ڈیوٹی عائد ہونے کا پہلا اثر خود امریکی انڈسٹری پر ہو گا جس کی کاسٹ آف پروڈکشن بڑھ جائے گی۔ ایکسپورٹنگ ممالک پر اس کا اثر کیا ہو گا یہ ضمنی نکتہ ہے۔  تاہم یہ یقینی ہے کہ اگر سٹیل اور ایلومینیم پر امریکہ کے صدر کی اعلان کردہ ڈیوٹیز اسی شرح سے نافذ ہوئین تو ایک مرتبہ امریکہ اور باقی دنیا کی معیشت کو سہم جانا پڑے گا۔ 

کینیڈا کے وزیر کا ردعمل

"کینیڈین سٹیل اور ایلومینیم امریکہ میں دفاع، جہاز سازی اور آٹو کی کلیدی صنعتوں کی پیداوار میں کام آتے ہیں،" کینیڈا کے وزیر برائے اختراع فرانکوئس فلپ شیمپین نے X پر ایک پوسٹ میں کہا۔

"یہ شمالی امریکہ کو زیادہ مسابقتی اور محفوظ بنا رہا ہے۔ ہم کینیڈا، اپنے کارکنوں اور اپنی صنعتوں کے لیے کھڑے رہیں گے۔‘‘

امریکہ کو سٹیل کے ایکسپورٹر آسٹریلیا کے عزیراعظم کا ردعمل

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ بات کرنے والے ہیں اور اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

"ہم امریکی انتظامیہ کے ساتھ آسٹریلیا کے قومی مفاد کا معاملہ کرتے رہیں گے اور مزید یہ کہ ہم اسے بھی امریکی قومی مفاد میں سمجھتے ہیں، کیونکہ ٹیرف یقیناً ہم پر ٹیکس نہیں لگاتے، وہ ہماری مصنوعات کے خریداروں پر ٹیکس لگاتے ہیں،" البانی نے پارلیمنٹ کو بتایا۔

اقوام متحدہ کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، آسٹریلیا نے 2023 میں امریکہ کو تقریباً 237 ملین ڈالر مالیت کا سٹیل اور لوہا برآمد کیا، اور اگلے سال تقریباً 275 ملین ڈالر مالیت کا ایلومینیم برآمد کیا۔

ٹرمپ کی تازہ ترین" ٹیرف دھمکیاں"  ان کے گزشتہ ماہ کینیڈا اور میکسیکو کی تمام اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف کے ساتھ ساتھ چینی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف لگانے کے منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آئیں۔

امریکی صدر نے بعد میں کینیڈا اور میکسیکو پر اقدامات میں تاخیر پر اتفاق کیا جب دونوں ممالک نے امریکی سرحد کے پار غیر قانونی منشیات اور غیر دستاویزی تارکین وطن کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مزید کام کرنے کا وعدہ کیا۔

چین کے خلاف ٹرمپ کے محصولات، جس نے امریکی برآمدات پر جوابی محصولات کا اعلان کیا تھا، منگل سے نافذ العمل ہوا۔

Caption امریکہ کس ملک سے کتنا سٹیل امپورٹ کرتا ہے , یہ ٹیبل سکرین شوٹ الجزیرہ نیوز کی ویب سائٹ سے لیا گیا۔

امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں تجویز پیش کی تھی کہ یورپی یونین  بھی محصولات کا سامنا کرنے کے لئے اگلی لائن میں ہوسکتی ہے ، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ  یورپی یونین بلاک امریکہ سے "تقریبا کچھ بھی نہیں" درآمد کرتا ہے جبکہ امریکہ "سب کچھ" لیتا ہے۔

"یورپی یونین واقعی لائن سے باہر ہے۔ ٹرمپ نے 2 فروری کو صحافیوں کو بتایا  تھا کہ یہ (امریکہ سے کچھ نہ خریدنا اور صرف امریکہ کو بیچتے چلے جانا) ایک ظلم ہے، جو انہوں نے کیا ہے۔

"میرے پاس ٹائم ٹیبل نہیں ہے لیکن یہ (یورپی یونین کے ممالک پر ٹیرف) بہت جلد آنے والا ہے۔"

ایشیا کی سٹاک مارکیٹوں نے ٹرمپ کے تازہ ترین تبصروں پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے، جاپان کا نکی انڈیکس 225 0.1 فیصد نیچے لیکن ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ اور چین کا ایس ایس ای کمپوزٹ بالترتیب 1.2 فیصد اور 0.3 فیصد بڑھ گیا۔ 02:30 GMT تک مارکیٹوں مین یہ صورتحال تھی، مزید امپیکٹ کا مشاہدہ ہم کر رہے ہیں۔

ماخذ: انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹس اور نیوز ایجنسیاں