کھانے پینے کی اشیا کے بعد کاغذبھی مہنگا،عوام سراپا احتجاج

کھانے پینے کی اشیا کے بعد کاغذبھی مہنگا،عوام سراپا احتجاج

شہزاد خان ابدالی:کاغذ ملیں یا ناجائز منافع خوری اور مال بنانے کا ذریعہ،کاغذ ملوں نے کاغذ کی قیمتوں میں مزید پانچ روپے فی کلوگرام تک کا اضافہ کردیا ،کتابیں،کاپیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ،تاجروں ،طلبا کے سر چکرا گئے۔

مقامی کاغذ ملوں نے کاغذ کی قیمتوں میں پانچ روپے فی کلوگرام کا اضافہ کردیا،جس کے بعد اردو بازار اور پیپر مارکیٹ میں پیپر کی نئی قیمت ایک سو گیارہ روپے تک پہنچ گی، صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز نے کاغذ ملوں کیجانب سے قیمتوں میں اضافے کی پرزور مذمت کی ہے،خالد پرویز کا کہنا ہے کہ حکومت کاغذ ملوں کی من مانی قیمتیں بڑھانے کا نوٹس لے۔

پیپر مارکیٹ کے تاجران نے بھی کاغذ کی قیمتیں بڑھانے پر کاغذ ملز مالکان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے،آل پاکستان پیپر مرچنٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذیشان سہیل ملک کہتے ہیں ملیں کاغذ کی قیمتیں ناجائز بڑھا کر تعلیم دشمنی کا ثبوت دے رہی ہیں،غریب آدمی کے بچوں کیلئے تعلیم کا حصول ناممکن بنایا جارہا ہے۔

تاجران کا کہنا ہے کہ حکومت اگر تعلیم کے فروغ کیلئے واقعی ہی سنجیدہ ہے تو کاغذ ملوں کیجانب سے قیمتیں بڑھانے کا فوری نوٹس لے اور ناجائز منافع خوری کو روکے۔

یاد رہے کھانے ،پینے کی اشیا پہلے ہی مارکیٹ میں مہنگے داموں مل رہی ہیں،روٹی سے لے گھی تک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔مہنگائی کے ستائے شہری حکومت کو بددعائیں دینے پر مجبور ہیں۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی کا جائزہ لینے کیلئے کل اجلاس طلب کیا ہے،ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں بڑے فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔