ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں مبینہ غیر قانونی رہائش اور قبضوں کا انکشاف

 کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں مبینہ غیر قانونی رہائش اور قبضوں کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

قیصر کھوکھر: کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ہال روڈ ہاسٹل اور دیگر رہائشی عمارات میں مبینہ غیر قانونی رہائش اور قبضوں کی شکایات سامنے آگئیں، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی نگرانی اور ہاسٹلز کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہال روڈ ہاسٹل کے تقریباً 10 کمروں پر برطرف وائی ڈی اے ڈاکٹرز کے مبینہ قبضے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ بعض کمروں کو مبینہ طور پر بیرونی افراد کو رہائش کے لیے دینے اور اس مد میں لاکھوں روپے وصول کیے جانے کی بھی شکایات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہال روڈ ہاسٹل میں غیر متعلقہ افراد کی مبینہ رہائش سکیورٹی کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ سکیورٹی سپروائزر وقاص پر بھی مبینہ سہولت کاری کے الزامات سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب آئی بی ٹی ایس کے ایک ملازم کی ریسٹ ہاؤس میں مبینہ غیر قانونی رہائش اور ہاسٹل کے کرائے و یوٹیلیٹی واجبات ادا نہ کرنے کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ڈپارٹمنٹ کے تمام 9 فلیٹس بھی مبینہ طور پر غیر قانونی قبضے میں ہیں، جن میں بعض فلیٹس میں برطرف جبکہ بعض میں غیر متعلقہ افراد کے رہائش پذیر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ اور قبضوں سے متعلق شکایات کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر انتظامی نگرانی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔شکایات میں اینٹی کرپشن پنجاب سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹلز اور رہائشی فلیٹس کی فوری انکوائری اور فزیکل انسپکشن کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ مبینہ غیر قانونی قبضوں اور الاٹمنٹس کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔