سٹی42: اپریل کے پہلے ہفتے ہی تربوز کی قیمت تیسرے آسمان پر پہنچ گئی۔ تربوز اس وقت مارکیٹ میں سب سے زیادہ قیمت پر بکنے والا پھل بنا ہوا ہے اور اس کی تجارت میں سب سے زیادہ منافع کمایا جا رہا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کی پھلوں کے نرخ کی لسٹ میں تربوز شامل تو ہے لیکن اس کی قیمت کی پابندی کروانا ان کے فرائض میں شامل ہی نہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق تربوز کی ہول سیل مارکیٹ میں قیمت تین سو تیس روپے سے لے کر چار سو روپے فی دانہ تک پہنچ گئی ہے، ہول سیل مارکیٹ میں اس قیمت پر فروخت ہونے والا ایک تربورز تقریباً آٹھ سے دس کلو تک وزنی ہے۔
اس تربوز کی کنزیومر پرائس اپریل کے پہلے ہفتے میں سو روپے فی کلو اور اس سے بھی زیادہ رہی۔ گرمی میں اضافہ کے ساتھ تربوز کی قیمت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ تربوز کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے اپنی فروٹ کے نرخ کی لسٹ میں شامل کرنے کے قابل ہی نہیں سمجھا یا شاید انہیں یہ علم ہی نہیں کہ تربوز بھی لاہور مین فروخت ہو رہا ہے اور منہ مانگے داموں بک رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیو دستاویزی شواہد کے مطابق سات اپریل کو پنجاب کی ایک علاقائی منڈی میں اچھے سائز کا لال تربوز پورا ٹرک تین سو تیس روپے فی تربوز کے حساب سے نیلام ہوا۔ اس تربوز کی لاہور کی مارکیٹ میں رہڑی پر اور فروٹ کی دوکانوں پر قیمت فی کلو سو روپے کے حساب سے وصول کی جا رہی ہے اس طرح تربوز فروخت کرنے والے دو گنا سے زیادہ منافع کما رہے ہیں۔
تربوز گرمی کے دنوں میں بہت زیادہ فروخت ہونے والا پھل ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں اگیتی کاشت کے تربوز لائے گئے ہیں جو اصل موسم شروع ہونے سے پہلے کاشت کئے گئے اور ان کی فصل پک کر مارکیٹ میں پہنچ گئی جب کہ تربوز کا اصل روایتی موسم شروع ہونے میں ابھی کئی ہفتے باقی ہیں۔