غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں حکومت کے نشانے پر آگئیں

action against housing scheme
illegal Housing Scheme

سٹی 42:خبر دار ہوشیار، لاہور سمیت صوبہ بھر میں سینکڑوں غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں میں بائی لاز پر عمل درآمد کرانے کے لیے پنجاب حکومت نے آرڈیننس جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ہاؤسنگ سکیموں کی مانیٹرنگ پنجاب کمیشن برائے ہاؤسنگ سکیمز کرے گا۔ پنجاب کمیشن ریگولرائزیشن ہاؤسنگ سکیمز آرڈیننس 2021 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ پنجاب حکومت کے ہاؤسنگ سکیمز آرڈیننس کا اطلاق صوبہ بھر میں ہوگا۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں ہزاروں غیر قانونی سکیمیں کمیشن کے نشانے پر آئیں گی جس کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ چیف جسٹس کی مشاورت سے کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جج کا انتخاب کیا جائے گا۔ 

20 سالہ تجربہ کے حامل ٹاؤن پلانر، سول انجینئر، ماحولیات کے ریٹائرڈ آفیسر اور یگل ایڈوائزر کو کمیشن کا ممبر منتخب کیا جائے گا۔ کمیشن مکینوں کو تحفظ دینے کے لئے فیصلے کرے گا جبکہ خلاف ضابطہ ہاؤسنگ سکیموں کے اختیارات کمیشن کے سپرد کردیئے گئے ہیں۔ کمیشن خلاف ضابطہ ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں قبرستانوں کی بحالی کروانے کا مجاز ہوگا اور ڈویلپرز ہاؤسنگ سوسائٹی کے 5 کلومیٹر دائرہ میں قبرستان بنانے کا پابند ہوگا۔

ہسپتال اور مساجد کی جگہ نہ رکھنے والے ڈویلپرز کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ کھیلوں کے میدان، پارکس اور گرین بیلٹس کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ خلاف ضابط ہاؤسنگ سکیموں کے ڈویلپرز مصالحتی کمیشن کے روبروپیش ہوسکیں گے۔ پرانی خلاف ضابطہ ہاؤسنگ سکیموں پر کمیشن کے فیصلے لاگو ہوں گے۔ مصالحتی کمیشن کے فعال ہونے پرسوسائیٹیز کے ذمہ دار متعلقہ ادارے ہونگے۔