ملک اشرف : قتل کیس میں سزائے موت پانیوالا قیدی 13 سال بعد بری،،ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا، مجرم اختر عرف بگو پر دیرینہ دشمنی پر قتل کرنے کا الزام تھا۔
جسٹس شہرام سرورچودھری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مجرم کی اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوسکی، اس لیے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ مجرم کی جانب سے ایڈووکیٹ پیر مسعود چشتی نے مؤقف اختیار کیا کہ تھانہ قادر پور ضلع جھنگ میں شہری افتخار عرف شموں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر ساڑھے چھ گھنٹے کی تاخیر سے درج ہوئی ،جبکہ وقوعہ رات کے وقت پیش آیا جہاں روشنی نہ ہونے کے باعث ملزمان کی شناخت ممکن نہیں تھی۔ وکیل نے مزید کہا کہ چشم دید گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ میں واضح تضاد موجود ہے، لیکن ٹرائل کورٹ نے ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود ملزم کو سزائے موت سنائی۔عدالت نے مدعی اور سرکاری وکیل کی مخالفت کے باوجود مجرم کو بری کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App