ویب ڈیسک : ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کل تک نوٹیفکیشن جاری نہ کیا تو 11 اکتوبر سے دودھ کی قیمت 300 روپے فی لیٹر کردیں گے ۔
ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ دودھ کی قیمت 270 سے 280 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے اگر کل تک حکومت نے تجویز کو قبول کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو 11 اکتوبر سے دودھ 300 روپے فی لیٹر فروخت کریں گے۔
ڈیری فارمر کا کہنا ہے کہ ہم نے ماضی میں بھی اپنی مرضی کی قیمت پر دودھ فروخت کیا ہے، 15 ماہ سے دودھ کی قیمت نہیں بڑھائی، کمشنر تین ماہ سے ٹال مٹول کر رہے ہیں۔
چند روز قبل ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا تھا کہ تقریباً پورے پاکستان میں دودھ کی فی لیٹر قیمت 200 روپے سے زائد ہے، تاہم سندھ حکومت چاہتی ہے کہ موجودہ قیمت برقرار رہے۔ دودھ کی قیمتوں کے تعین سے متعلق حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا، کمشنر ہاؤس میں ہونے والی میٹنگز میں طے پایا ہے کہ پہلے دودھ کا معیار چیک کیا جائے گا اور اس کے بعد قیمت مقرر کی جائے گی۔
کمشنر کراچی مسلسل ڈیری فارمرز سے رابطے میں ہیں اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں مختلف محکموں کے افراد شامل ہیں تاکہ مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکے۔
تاہم ابھی تک حکومت اور ڈیری فارمرز کے درمیان ڈیڈ لاک ہے ۔ ڈیری فارمرز بھی قیمتیں بڑھانے پر بضد ہیں جبکہ حکومت کے مطابق قیمتیں پہلے ہی زیادہ ہیں ۔