(ویب ڈیسک)غزہ میں اسرائیل کی لامتناہی بربریت کے بعد جنگ بندی معاہدہ آج پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے نافذ العمل ہو گیا جس کا عالمی رہنماؤں نے خیرمقدم کیا ہے۔
مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ اہم لمحہ ہے، شرم الشیخ میں ہونے والی مثبت پیش رفت غزہ جنگ میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتی ہے، مصری وزیر خارجہ بدرعبدالعاطی آج پیرس روانہ ہوں گے، وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
مصری صدر نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی قائم کرنے اورجنگ کے خاتمے کامعاہدہ طے پایا گیا، اسرائیلی عہدیدار کے مطابق غزہ سے20اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اتواریا پیرکومتوقع ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق جنگ بندی آج شام اسرائیلی حکومت کی طرف سے معاہدے کی توثیق کے بعد نافذالعمل ہو گی۔
خبرایجنسی کے مطابق نیتن یاہو نے معاہدے کی منظوری کے لیے سیکیورٹی کابینہ اور حکومت کا اجلاس آج شام طلب کر رکھا ہے۔
اسرائیلی عہدیدار کے مطابق غزہ سے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اتوار یا پیر کو متوقع ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری جنگ روکنے اور غزہ میں یرغمال قیدیوں کی رہائی کے لیے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر مصر میں دستخط کر لیے گئے تھے۔
امن مذاکرات میں امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر اور حماس رہنما خلیل الحیہ نے شرکت کی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عملی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج جزوی انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل کر لے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر امن ڈیل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ عربوں، مسلم دنیا، اسرائیل، پڑوسی اقوام اور امریکا کے لیے عظیم دن ہے۔ ڈیل کا مطلب یہ ہے کہ تمام یرغمالی جلد رہا کردیے جائیں گے اور اسرائیل ایک مضبوط، پائیدار اور لازوال امن کی طرف پہلے قدم کے طور پر اپنی فوج کا متفقہ لائن پر انخلا کرے گا۔