ویب ڈیسک: سڈنی میں سابق UFC فائٹر سُمان مختاریان کو ایک "بے خوف" گولہ باری کے واقعے میں قتل کر دیا گیا، جب وہ شام کے وقت واک پر تھے۔
یہ واقعہ ریورسٹون کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مختاریان کو براہِ راست گولی ماری گئی۔ واقعے کے کچھ دیر بعد دو گاڑیاں مختلف مقامات پر جلتی ہوئی پائی گئیں، جو حالیہ منظم جرائم کی کارروائیوں کا عام طریقہ کار ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ جیسن جائس نے واقعے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ہے کہ یہ ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رھائشی علاقے میں لوگ رات کے وقت محفوظ انداز میں چہل قدمی کی توقع رکھتے ہیں، البتہ اس واقعے نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔
مقامی میڈیا کے مطابق مختاریان پہلے بھی فروری 2024 میں حملے کا شکار ہوئے تھے، جب ایک حملہ آور نے ان پر سڈنی کے مغربی حصے میں واقع جِم کے باہر فائرنگ کی تھی۔ مختاریان نے 2018 اور 2019 میں UFC میں دو مقابلے لڑے، مگر دونوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں وہ کوچ بن گئے اور آسٹریلوی MMA ٹیلنٹس کی ترقی میں حصہ ڈالنے لگے۔
واقعے کے گواہ بن نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ واک پر تھے کہ اچانک ایک بلند آواز کی گونج سنائی دی اور دھویں کی لہر اٹھتی ہوئی دیکھی۔ ایک اور خاتون نبیلی نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر کے سامنے تھیں اور جیسے ہی واقعہ ہوا فوراً پولیس کو اطلاع کی۔ انہوں نے بتایا کہ مختاریان زندہ نہیں تھے، اس لیے وہ ان کی مدد نہ کر سکیں۔
یہ قتل اس سے ایک دن قبل پیش آنے والے واقعے کے بعد ہوا ہے، جس میں پولیس نے ایک "قتل ٹیم" کو پکڑ لیا تھا، جن کے پاس اسلحہ، با لکلوا، جسم پر نصب کیمروں اور جیری کینز تھے۔ پولیس اب ان دونوں واقعات کے درمیان تعلق کا جائزہ لے رہی ہے۔