ویب ڈیسک: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ان کی اصل لاگت اور مختلف ٹیکسز کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں.
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 198 روپے 1 پیسہ صرف مختلف ٹیکسز کی مد میں شامل ہیں، جبکہ ٹیکسز کے بغیر اس کی بنیادی قیمت 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرول کی قیمت میں 29 روپے فی لیٹر پریمیم بھی شامل کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرول پر 117 روپے 41 پیسے لیوی، 22 روپے 74 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 8.64 روپے آئل کمپنیوں کا منافع، 7.87 روپے ڈسٹری بیوشن مارجن، 7.25 روپے فریٹ مارجن اور 2.50 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔ مزید برآں 2 روپے 69 پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ بھی قیمت کا حصہ ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی مختلف ٹیکسز اور چارجز شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 113 روپے 71 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔ بنیادی طور پر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 301 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔
ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے لیوی، 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 2.50 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی، 8.91 روپے سمندری نقصان کی ڈیوٹی، 2.95 روپے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ، 7.76 روپے فریٹ مارجن، 7.87 روپے ڈسٹری بیوشن مارجن اور 8.64 روپے آئل کمپنیوں کا منافع شامل ہے۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 20 ڈالر فی بیرل پریمیم بھی لاگت میں شامل کیا جاتا ہے۔
اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا حصہ مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز پر مشتمل ہے۔