ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل منفی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کاروباری ہفتے کے پہلے دن پی ایس ایکس میں ٹریڈنگ کا آغاز ہی مندی سے ہوا اور ایک مرحلے پر 100 انڈیکس 9 ہزار 780 پوائنٹس کی بڑی کمی کے بعد 1 لاکھ 47 ہزار 715 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔
اسی دوران کے ایس سی 30 انڈیکس میں 6.39 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث ٹریڈنگ کو 45 منٹ کے لیے روک دیا گیا۔
ادھر گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر بھی اسٹاک مارکیٹ میں شدید دباؤ برقرار رہا اور 100 انڈیکس مجموعی طور پر ایک ہفتے میں 10 ہزار 566 پوائنٹس کم ہو کر 1 لاکھ 57 ہزار 496 پوائنٹس پر بند ہوا۔
کاروباری ہفتے کے دوران 100 انڈیکس 10 ہزار 217 پوائنٹس کے بینڈ میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہا جبکہ مارکیٹ میں 3 ارب 28 کروڑ شیئرز کے سودے تقریباً 181 ارب روپے میں طے پائے۔
اس دوران مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی نمایاں کمی ہوئی اور یہ 1231 ارب روپے کم ہو کر 17 ہزار 698 ارب روپے رہ گئی۔
خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا کشیدگی بڑھنے سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جس کا اثر اسٹاک ایکسچینج پر بھی پڑتا ہے۔
ایسے حالات میں سرمایہ کار عموماً رسک کم کرنے کے لیے شیئرز فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے مارکیٹ میں مندی آ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھ جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں، جس سے پاکستان کا درآمدی بل اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، اسی وجہ سے سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں اور اسٹاک مارکیٹ میں دباؤ بڑھ جاتا ہے۔