ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی

 عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

  خبر ایجنسی کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی۔

 برینٹ خام تیل تقریباً 17 فیصد اضافے کے بعد 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 19 فیصد بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو تیل 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

 واضح رہے کہ پٹرولیم مصنوعات (جیسے پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل وغیرہ) کی قیمتوں میں اضافہ معیشت اور عام زندگی پر کئی طرح کے اثرات ڈالتا ہے۔

جب پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو ٹرانسپورٹ کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اشیائے خورونوش، سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

بس، ویگن، رکشہ اور دیگر ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس سے عام لوگوں خصوصاً طلبہ اور مزدوروں پر مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

فیکٹریوں اور صنعتوں میں مشینری چلانے اور مال کی ترسیل کے لیے ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ قیمتیں بڑھنے سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں۔

زرعی مشینری (جیسے ٹریکٹر، ٹیوب ویل) ڈیزل یا پٹرول سے چلتی ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے کاشتکاری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور فصلوں کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔