ڈبہ بند دودھ بیچنے والی کمپنیوں کی شامت آگئی

ڈبہ بند دودھ بیچنے والی کمپنیوں کی شامت آگئی

ملک اشرف : ڈبہ بند دودھ سےمتعلق لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا کہ ڈبوں کا دودھ ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں، بیچنے والی کمپنی سٹاک اٹھا لے ورنہ توہین عدالت کی کاروائی کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ میجی کمپنی کے مالک اور نیسلے کمپنی کے وکیل نے بتایا کہ ڈبوں میں بند دودھ نہیں فارمولا ملک ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا پھر اسے دودھ کہہ کر کیسے بیچا جا سکتا ہے۔ ڈبوں پر واضح لکھا جائے کہ یہ متبادل نہیں، ایسا نہ کیا تو عدالت اشتہار جاری کرے گی۔

نیسلے کمپنی لاہورکے تمام سٹوروں سے اپنا سٹاک اٹھا لے۔ ملک ایسویسی ایشن کے وکیل بئیرسٹراعتزاز احسن کو پیش نہ ہونے پرعدالت نے 10 ہزار روپے جرمانہ کردیا۔ سماعت کل 10 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی چیف جسٹس نے ایکشن لیتے ہوئے ڈبہ دودھ کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ قوم کو دھوکے میں رکھ کر کیمیکل کو دودھ بتاکر نہیں بیچنے دیں گے۔عدالت نے یہ ثابت کیا تھا کہ یہ دودھ نہیں ٹی وائٹنر ہے اس لیے واضح لکھیں کہ یہ دودھ نہیں ہے۔

اس دوران نجی کمپنیز کے وکلا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ دودھ کا دوبارہ لیب ٹیسٹ کرایا جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تھا آپ ناقص دودھ بیچ رہے ہیں، لاہور میں دوبارہ اس کی سماعت کریں گے وہاں یہ معاملہ دیکھیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے دودھ فروخت کرنے والی چار کمپنیوں کو بھی  سیل، مارکیٹ اور فروخت پر فوری بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس نے دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر بھی پابندی عائد کی تھی۔