سٹی 42: پاکستان کی معیشت کا اہم دن ; اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 15 جون کو طلب کیا گیا ۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کی سربراہی کریں گے۔ کمیٹی اہم معاشی اعداوشمار کا جائزہ لے گی ۔ ٹاپ لائن ریسرچ نے مانیٹری پالیسی سے مارکیٹ سروے جاری کردیا ۔ سروے میں 49 فیصد ماہرین نے شرح سود برقرار رہنے کی توقع ظاہر کردی ۔
49 فیصد شرکاء شرحِ سود میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق34 فیصد ماہرین نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی ہے ۔15 فیصد شرکاء کے مطابق شرحِ سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھ سکتی ہے۔ صرف 2 فیصد ماہرین شرحِ سود میں کمی کے حامی ہیں ۔
ٹاپ لائن ریسرچ کی پیشگوئی کے مطابق آئندہ پالیسی میں شرحِ سود برقرار رہنے کا امکان ہےرپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا، برینٹ خام تیل 118 ڈالر سے گر کر تقریباً 93 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
صدر ٹرمپ کے جنگ کے جلد خاتمے کے بیانات نے عالمی منڈیوں کو سہارا دیا۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں اور ثالثی بھی شرحِ سود برقرار رکھنے کے حق میں قرار ہے ۔ سیکنڈری مارکیٹ اشارہ دے رہی ہے کہ 50 سے 75 بیسس پوائنٹس اضافے کی گنجائش موجود ہے ۔ چھ ماہ ٹی کی کٹ آف ایلڈ 12.42 فیصد ہوگئی ہے ، 6 ماہ کا کراچی انٹربینک آفر ریٹ 12.50 فیصد پر پہنچ گیا ہے ۔53 فیصد ماہرین کے مطابق دسمبر 2026 تک شرحِ سود 11.5 فیصد سے اوپر رہے گی۔31 فیصد شرکاء شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع رکھتے ہیں۔16 فیصد ماہرین سال کے اختتام تک شرحِ سود میں کمی کے امکان کے حامی ہیں ۔ افراطِ زر پر بھی ملا جلا رائے، 20 فیصد نے 10 فیصد سے زائد مہنگائی کی پیشگوئی کی گئی ۔ مالی سال 2027 میں اوسط مہنگائی 8 سے 8.5 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق زیادہ تر ماہرین روپے کے استحکام کی توقع کی ہے ۔اکثریت نے ڈالر 280 سے 290 روپے کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی ہے ۔ دسمبر 2026 تک ڈالر 283 سے 286 روپے کے درمیان رہنے کا امکان ہے ۔ مارکیٹ کی تمام نظریں 15 جون کے اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر مرکوز ہیں ۔