ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملکی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ، کامیابی سے مہنگائی پر قابو پا لیا،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 ملکی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ، کامیابی سے مہنگائی پر قابو پا لیا،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
کیپشن: File photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب  نے  قومی اقتصادی سروے برائے 25-2024 پیش کر  دیا۔

 قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ معاشی استحکام کی طرف گامزن ہیں عالمی سطح پر مجموعی پیداوار کی شرح کم ہوئی ہے اور گلوبل جی ڈی پی کا نمو 2.8 فی صد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے  جو کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا نشان ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشی بحالی کو عالمی منظر نامے کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ دو سال قبل (2023ء میں) ہماری مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) گروتھ منفی تھی اور مہنگائی کی شرح 29 فی صد سے بلند ہو چکی تھی، جس کے بعد حکومت نے بڑے  فیصلے کیے، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت اب بتدریج بہتر سے بہتر ہوتی جا رہی ہے۔

 وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ افراط زر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے اور مہنگائی کی شرح کم ہوکر اب 4.6 فی صد پر آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم معیشت کا ڈی این اے بدلنا چاہ رہے ہیں، جس کے لیے کچھ اسٹرکچرل ریفارمز ناگزیر ہیں۔ ٹیکس اصلاحات سب کے سامنے ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے معاشی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا  ہے، میں ان کی تعریف کروں گا۔

 انہوں نے کہا کہ انرجی اصلاحات کو اویس لغاری اور علی پرویز ملک تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ڈیسکوز کے بورڈ نجی شعبے سے لائے ہیں، اس سے کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔ 1.27ٹریلن روپے کے گردشی قرضے کے حل کے لیے بینکوں سے معاہدہ بھی ہوا ہے۔ نگران حکومت میں ہونے والے اچھے اقدامات کو سراہتا ہوں۔

 حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر 11 فیصد پر آگیا ہے۔ 24 ایس او ایزکو پرائیویٹائزیشن کے حوالے کیا ہے۔ پچھلے سال پالیسی ریٹ نیچے آنے سے ڈیبٹ سروسنگ کی مد میں کافی بچت ہوئی۔ پنشن ریفارمز کے تحت ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن سسٹم کی طرف جاچکے ہیں ۔ لیکیج کا روکنا بہت ضروری ہے،  اس سلسلے میں رائٹ سائزنگ کی جارہی ہیں۔

 وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 43 وزارتیں اور 400 اٹیچ ڈیپارٹمنٹس کی رائٹ سائرنگ کی جارہی ہے۔ بجٹ میں بتاؤں گا کہ اسے آگے کیسے لے کر جائیں گے۔ اسے مرحلہ وار آگے لے کر جارہے ہیں۔ ہم وزارتوں اور محکموں کو ضم کررہے ہیں۔

 رواں مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے، ریٹیل رجسٹریشن 74 فیصد ہوئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی تا اپریل 1.9 ارب ڈالر سرپلس رہا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 5 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، امپورٹس ہماری ساڑھے 16 فیصد بڑھی ہیں، آئی ٹی میں فری لانسرز نے 400 ملین ڈالرز کمائے ہیں۔

 وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی جارحیت پر افواج پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا، اکنامک محاذ پر بھی ایک جنگ چل رہی تھی، ہماری افواج پاکستان نے اپنا لوہا منوایا۔

محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بیرونی شعبے میں دہرے بحرانوں کا المیہ رہا ہے، ایس آئی ایف سی کا فوکس انرجی، آئی ٹی، زراعت اور مائننگ پر ہے، لوکل انویسٹرز آئیں گے تو فارن انویسٹرز آئیں گے، 800 ارب قرضوں کی ادائیگی میں بچائے، مالیاتی ادارے ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

 ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں قرضوں کی ادائیگیوں میں جتنا بھی بچے گا اس کو دیگر سیکٹر میں لے جائیں گے، صنعتوں کی گروتھ میں 6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، خدمات کے شعبے میں دو فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبے میں تین فیصد تک اضافہ ہوا ہے، زرعی شعبے کا اضافہ محض 0.6 فیصد تک بڑھا ہے۔

 وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک کی وجہ سے زراعت کے شعبے میں ترقی ہوئی، برآمدات 6.8 فیصد اضافے سے 27 ارب 30 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئیں، معیشت کا حجم 372 ارب ڈالر کے مقابلے میں 411 ارب ڈالر ہو گیا ہے، فی کس آمدنی 162 ڈالر اضافے کے بعد 1824 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

 محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ حکومت پرائیویٹ سیکٹر سے آئندہ اپنی شرائط پر قرض لے گی، رواں مالی سال انفرادی فائلرز کی تعداد میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بیرون ملک پاکستانی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے انویسٹ کررہے ہیں، پاسکو کرپشن کا گڑھ ہے اسے ختم کرنے جارہے ہیں، 2 سال کے دوران ترسیلات زر میں تقریباً 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، مشینری کی امپورٹ میں اضافہ معیشت کیلئے خوش آئند ہے۔

 وفاقی وزیر نے بتایا ہے کہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.49 فیصد کمی ہوئی، آلو کی فصل میں 11.5 فیصد، پیاز میں 15.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مکئی میں 15.4 فیصد،چاول میں 1.4 فیصد کمی ہوئی، اسی طرح کپاس میں 30 فیصد، گندم میں 8.9 فیصد، گنے کی پیداوار میں 3.9 فیصد کمی ہوئی ہے۔